مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 123
123 اس کا ثبوت کہ وہ راجع الی الحق ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انعامی اشتہارات ہیں۔آپ نے آتھم کو حلف مؤکد بعذاب اٹھانے کے لیے چار ہزار روپیہ تک انعامی چیلنج دیا مگر وہ میدان میں نہ آیا۔عیسائی : اس کے لیے حلف اٹھانا نا جائز تھا ( یعقوب ۵۱/۱۲ ومتی ۵/۳۴) اس لئے مرزا صاحب کا مطالبہ حلف درست نہ تھا۔جواب:۔غلط ہے۔انجیل سے ثابت ہے کہ یسوع کے بعد اس کے شاگر داور رسول قسمیں کھاتے رہے چنانچہ پولوس نے مسیح کی قسم بھی کھائی۔(تھیلدیکیوں ۵/۲۸،۲۷) (انجیلی اصطلاح میں خداوند سے مراد یسوع ہے ) فخر کی قسم۔(۱۔کرنتھیوں ۱۶/۲۱) پر گواہ ہے۔اس لیے آتھم کا بہانہ شائستہ اعتناء نہ ہونے کے وجہ سے صداقت حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام بارھواں اعتراض: مرزا صاحب کی آمد کی وجہ سے تمام مسلمان پاک نہیں ہو گئے مگر خداوند یسوع کے کفارہ " پر ایمان لانے سے ہم پاک ہو گئے اور کفارہ نے گناہ کو جڑ سے کاٹ دیا۔الجواب: - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے خدا تعالیٰ کی سنت قدیمہ کے مطابق جماعت احمدیہ کا جو ایک پاکبازوں کی جماعت ہے قیام ہوا۔کیا مسیح کی آمد پر تمام یہودی پاک ہو گئے تھے؟ ہاں یسوع کی زندگی میں صرف بارہ آدمی ظاہری طور پر پاک ہوئے تھے جن کی حالت کا نقشہ انجیل نے خوب کھینچا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا کے فضل سے مسیح سے لاکھوں گنا کامیابی ہوئی۔باقی رہا کفارہ سے گناہ کا جڑ سے کٹنا۔سو یہ بھی غلط ہے۔انجیل میں ہے کہ یسوع کے بعد خود عیسائیوں میں بدکاری موجود تھی۔چنانچہ پولوس رسول عیسائیوں کو مخاطب کر کے لکھتا ہے :۔” یہاں تک سننے میں آیا ہے کہ تم میں حرام کاری ہوتی ہے بلکہ ایسی حرام کاری جو غیر قوموں میں بھی نہیں ہوتی۔چنانچہ تم میں سے ایک شخص اپنے باپ کی بیوی کو رکھتا ہے اور تم افسوس تو کرتے نہیں تا کہ جس نے یہ کام کیا تم میں سے نکالا جائے بلکہ شیخیاں مارتے ہو۔“ (۱۔کرنتھیوں ۵/۱) غرضیکہ موجودہ عیسائیوں اور ان کی تبلیغ کی وہی کیفیت ہے جو سیح نے ان الفاظ میں بیان کی ہے:۔اے ریا کا رفقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس ہے کہ ایک کو مرید کرنے کے لئے تری اور خشکی کا