مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 117
117 لہذا آسمان سے جلال کے ساتھ نازل ہونا چہ معنی دارد۔(ج) مسیح کی آمد چور کی طرح ہوگی۔(۲۔پطرس ۳/۱۰ وا ھسلینکیوں ۵۱۲ ولوقا۱۲۱۳۹ومتی ۲۴/۴۳) چور رات کو چھپ کر اور لباس بدل کر آتا ہے یا جلال کے ساتھ اپنی اصلی شکل میں۔اسی طرح مسیح نے بھی بھیس بدل کر اپنے مثیل کے رنگ میں آنا تھا مگر تم نے اس کے کلام کونہ سمجھا۔تیسرا اعتراض: مسیح نے کہا :۔بہت سے جھوٹے مسیح آئیں گے تم ان پر ایمان نہ لانا۔مرزا صاحب بھی انہیں میں سے ہیں۔خواہ کتنے نشان دکھا ئیں ہم نہیں مانیں گے۔الجواب:۔یسوع نے جن جھوٹے مدعیان میسحیت ونبوت کا ذکر کیا ہے وہ وہی ہیں جو یسوع کو ” خداوند کہتے ہیں اور اس کے نام سے بدروحوں کو نکالنے کے اور اس کے فیض اور اسی کی برکت سے مسیحیت کے مدعی ہیں۔چنانچہ لکھا ہے:۔”جھوٹے نبیوں سے خبر دار رہو۔جو تمہارے پاس بھیٹروں کے لباس میں آتے ہیں مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں۔ان کے پھلوں سے تم انہیں پہچان لو گے جو مجھ سے اے خداوند ! اے خداوند ! کہتے ہیں اس دن بہتیرے مجھ سے کہیں گے اے خداوند ،اے خداوند کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی؟ اور تیرے نام سے بدروحوں کو نہیں نکالا۔اور تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دکھائے۔“ ( متی ۱۵ تا ۷/۲۲ ) گویا وہ جھوٹے نبی (۱) بُرے پھلوں والے (۲) یسوع کو خداوند کہنے والے (۳) اسی کی برکت سے سب کچھ کرنے والے ہوں گے۔مرزا صاحب میں یہ تینوں باتیں نہیں پائی جاتیں۔آپ تو یسوع کی الوہیت کے سب سے بڑے دشمن تھے۔آپ نے تحفہ قیصریہ میں مسیح کے نام سے آنے والا اپنے آپ کو کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں۔اصل مسیح چونکہفوت ہو گیا ہے اس لیے آنے والا مثیل مسیح حضور علیہ السلام ہی کا وجود باجود ہے۔ورنہ آپ نے یسوع کے فیض سے نبوت پانے کا بھی دعویٰ نہیں کیا۔ہاں یسوع کی عبارت مندرجہ متی ۷/۱۸ میں ڈوٹی جیسے عیسائی مدعیانِ مسیحیت و نبوت شامل ہیں جو الوہیت مسیح کے قائل اور اسی کے نام سے سب کچھ کرنے کے مدعی ہیں۔( مثلاً تھیو داس اور یہودا کلیلی دیکھو اعمال ۳۶، ۵/۳۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اس پیشگوئی کو چسپاں کرنا سراسر ظلم ہے۔آپ کی اولاد اور جماعت کو دیکھو۔چوتھا اعتراض:۔مری پڑنا۔لڑائیوں کا ہونا۔بھونچال آنا۔چاند سورج کا تاریک ہونا