مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 940 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 940

940 ہوا سے وضع لغوی“ کہتے ہیں اور اگر یہ تین شریعت نے کی ہو تو اسے ”وضع شرعی“ کہیں گے اور اگر یہ تعیین کسی خاص جماعت نے کی ہو تو اسے ”وضع عرفی خاص“ کہیں گے اور اگر عرف عام سے یقین ہو تو اسے وضع عرفی عام کہتے ہیں اور مجاز میں انہی تعینیوں کا عدم مراد ہے۔اب ظاہر ہے کہ ان چاروں اوضاع ( یعنی وضع لغوی ، وضعی شرعی، وضع عرفی خاص اور وضع عرفی عام ) میں سے حضرت مسیح موعود کی تحریرات میں لفظ حقیقی نبی“۔”وضع عرفی خاص کے طور پر ہی استعمال ہوا ہے۔یعنی یہ حضور اور حضور کی جماعت کی ایک خاص وضع کردہ اصطلاح ہے۔جس کا مفہوم حضرت اقدس نے تشریعی براہِ راست نبوت بیان فرمایا ہے۔پس مجازی نبی کی اصطلاح بھی اس کے بالمقابل وضع عرفی خاص ہونے کی جہت سے غیر تشریعی بالواسطہ نبی کے معنوں میں ثابت ہوئی۔و۔اس امر کی مزید مثالیں کہ لفظ مجاز ہمیشہ حقیقت کا عکس ہوتا ہے۔درج ذیل ہے۔ڈاکٹر سر محمد اقبال فرماتے ہیں :۔وجود افراد کا مجازی ہے ہستی قوم ہے حقیقی فدا ہو ملت پر یعنی آتش زن طلسم مجاز ہو جا میں نے کہا کہ موت کے پردے میں ہے حیات پوشیدہ جس طرح ہو حقیقت مجاز میں (با نگ درا - پیام عشق صفحہ ۱۳۸) (با نگ در اس شمع اور شا عرصفحہ ۲۲۰) اشعار بالا میں ڈاکٹر صاحب نے قوم کے وجود کو حقیقی قرار دیکر اس کے بالمقابل افراد کے وجود کو مجازی قرار دیا ہے، لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ افراد قوم ”موجود ہی نہیں؟ یا ان کا در حقیقت کوئی وجود پایا ہی نہیں جاتا؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں۔بلکہ آپ نے صرف قوم کے وجود کے بالمقابل افراد کے وجود کو مجازی قرار دیا ہے نہ کہ مطلقا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے خود کو مطلقاً مجازی نبی قرار نہیں دیا۔بلکہ حقیقی نبی یعنی اپنے آقا و مطاع آنحضرت صلعم کے بالمقابل جو صاحب شریعت ہیں اپنے آپ کو مجازی نبی کہا ہے۔پس چونکہ آپ کی خاص اصطلاح ( مندرجہ بالا ) میں حقیقی نبی“ سے مراد صاحب شریعت براہ راست نبی ہے اس لئے ”مجازی نبی“ کے معنے آپ کی