مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 939 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 939

939 الْحَقِيقَةِ۔فَلَا تَهِيْجُ هَهُنَا غَيْرَةُ اللَّهِ وَلَا غَيْرَةُ رَسُوْلِهِ، فَإِنِّي أُرَبَّي تَحْتَ جَنَاحِ النَّبِيِّ، 66 وَقَدَمِي هَذِهِ تَحْتَ الْأَقْدَامِ النَّبَوِيَّةِ “ الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۸۹) یعنی میرا نام اللہ تعالیٰ نے نبی حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں میں رکھا ہے۔پس اس اللہ اور رسول کی غیرت جوش میں نہیں آتی کیونکہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروں کے نیچے پرورش پائی ہے اور میرا یہ قدم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام مبارک کے نیچے ہے۔پس اس عبارت سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ”مجازی نبوت کا لفظ ”حقیقی نبوت کے بالمقابل بایں معنی استعمال ہوا ہے کہ میں آنحضرت صلعم کے ماتحت اور حضور کے فیض سے نبوت پانے والا ہوں یعنی غیر تشریعی بالواسطہ نبی ہوں۔گویا مجازی نبوت کے معنے ہیں ” غیر تشریعی بالواسطہ نبوت“۔ب۔جیسا کہ اوپر بیان ہوا ”مجازی نبی“ کا لفظ ”حقیقی نبی“ کے بالمقابل استعمال ہوا ہے۔پس اصطلاح میں جو مفہوم حقیقی نبی کا ہے اس کے الٹ مفہوم مجازی نبی کا سمجھا جا سکتا ہے۔اوپر ضمن نمبر ۴ میں حقیقی نبی کی اصطلاح کا مفہوم حضرت اقدس کی تحریرات سے صاحب شریعت اور براہ راست نبوت پانے والا ثابت کیا گیا ہے۔پس مجازی نبی“ کا مفہوم اس کے بالمقابل غیر تشریعی بالواسطہ نبی ہی ہو سکتا ہے نہ کہ غیر نبی۔ج۔عام اصطلاح میں بھی لفظ مجازی“ کوئی مستقل لفظ نہیں بلکہ ہمیشہ لفظ حقیقی کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے اور ہمیشہ حقیقت سے مجاز کا پتہ لگایا جاتا ہے۔نہ کہ مجاز سے حقیقت کا۔چنانچہ لکھا ہے: أَمَّا الْحَقِيقَةُ فَاسْمٌ لِكُلّ لَفْظِ يُرِيدَ بِهِ مَا وُضِعَ لَهُ۔۔۔۔وَالْمُرَادُ بِالْوَضْعِ تَعْيِينُهُ لِلْمَعْنَى بِحَيْثُ يَدُلُّ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ قَرِيْنَةٍ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ التَّعْيِينُ مِنْ جِهَةٍ وَاضِعِ اللَّغَةِ فَوَضْع لُغَوِيٌّ۔وَإِنْ كَانَ مِنَ الشَّارِعِ فَوَضْعٌ شَرْعِيٌّ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ مَخْصُوص فَوَضْع عُرَفِيٌّ خَاصٌ۔وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ غَيْرُ مُعَيَّنٍ فَوَضْعٌ عُرَفِيٌّ عَامٌ وَالْمُعْتَبَرُ فِي الْحَقِيقَةِ هُوَ الْوَضْعُ لِشَيْءٍ مِنْ اَوْضَاعِ الْمَذْكُورَةِ وَ فِي الْمَجَازِ عَدُمُهُ۔“ (کتاب نور الانوار باب بحث الحقیقت و المجاز صفحه ۷۵ شرح المنار ) یعنی حقیقت اس لفظ کو کہتے ہیں جس سے مراد وہی معنے لئے گئے ہوں جن کے لئے وہ مقرر کیا گیا ہو۔اور وضع یعنی مقرر کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس لفظ سے کسی قرینہ کے بغیر وہ معنے سمجھے جاتے ہوں۔اب اگر یہ تین لغت بنانے والے کی طرف سے