مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 914
914 نَبَّهَ عَلَى ثُبُوتِ اَصْلِهَا شَيْخُ الْإِسْلَامِ أَبُو حَاتِمِ الْحَافِظُ الْكَبِيرُ ابْنُ حَافِظِ الشَّهِيرِ (والطبرى) مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ الْمُنْذِرِ۔وَمِنْ طُرُقٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ ابْنِ آيَاسِ عَنْ سَعِيدِ ابْنِ۔۔۔۔۔قَالَ قَرَءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَكَّةَ وَالنَّجْمِ فَلَمَّا بَلَغَ الخ“ (زرقانی شرح مواهب اللدنيه جلد اصفحه ۳۴۰ مطبوعہ از ہر یہ پریس مصر ۱۳۲۵ھ مصنفہ محمد بن عبدالباقی الزرقانی ) نیز تفسیر حسینی مترجم اردوز بر آیت وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ (الحج :۵۳) میں لکھا ہے۔”ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تلاوت کرتے تھے تو اس شیطان نے جسے ابيض “ کہتے ہیں آپ کی آواز بنا کر یہ کلمات پڑھ دیئے۔تِلْكَ الْعَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجي۔“ و۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو چل گیا:۔سُحِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ كَانَ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا فَعَلَهُ۔(بخاری کتاب الطب باب السحر) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسحور ہو گئے۔یہاں تک کہ ان کو خیال ہوتا تھا کہ میں نے فلاں کام کیا ہے۔حالانکہ انہوں نے وہ کام کیا نہیں ہوتا تھا۔صحابہ کی تو ہین مسجد نبوی میں ( آیت حجاب کے نازل ہونے سے پہلے ) ایک خوبصورت سفید رنگ کی عورت نماز پڑھنے کے لئے آئی۔تو صحابی بے اختیار ہو کر اس کو تاڑنے لگے۔جو پچھلی صف میں تھے ان کی خواہش تھی کہ آگے آجائیں۔اور جو انگلی صف میں تھے وہ اس صف میں ملنے کے لئے پیچھے آنا چاہتے تھے پھر نماز شروع ہوئی۔تو اگلی صف والے صحابی جب رکوع میں جاتے تھے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے تھے اس پر سورۃ حجر رکوع ۲ کی یہ آیت نازل ہوئی کہ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنكُمْ وَلَقَدْ عَلِمَنَا الْمُسْتَأْخِرِینَ کہ ہم اگلوں کو بھی جانتے ہیں اور پچھلوں کو بھی۔یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے اور اس کے آگے لکھا ہے۔هَذَا حَدِيث صَحِيحِ الْأَسْنَادِ (مستدرک حاکم جلد ۲ صفحه ۳۵۳ مطبوعه حیدر آباد ) راوی نوح بن قیس قَالَ الذَّهَبِيُّ صَحِيحٌ هُوَ صُدُوقٌ خَرَجَ لَهُ مُسْلِمٌ۔که