مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 913
913 کہ یہ آیت ( أمسك عَلَيْكَ زَوْجَكَ ) زینب کے متعلق ہے اور وہ اس طرح سے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلعم نے زینب کو دیکھا۔اس کے بعد کہ آپ نے زینب کا نکاح زید سے کر دیا ہوا تھا۔پس آپ کے دل میں (نعوذ باللہ) زینب کا عشق ہو گیا اور آپ نے فرمایا سُبحَانَ اللَّهِ مُقَلِبُ الْقُلُوبِ» که پاک ہے وہ اللہ جو دلوں کو پھیر دیتا ہے۔زینب نے آپ کی یہ تسبیح سن لی اور زید سے ذکر کر دیا۔پس زید کے دل میں زینب کے ساتھ صحبت کے متعلق کراہت پیدا ہوگئی اور وہ آنحضرت صلعم کے پاس آیا۔اور آ کر کہا کہ میں اپنی بیوی سے علیحدہ ہونا چاہتا ہوں۔آنحضرت نے پوچھا۔کیا تجھ کو اس میں کوئی عیب نظر آتا ہے۔زید نے کہا۔بخدا نہیں۔اس میں مجھے کوئی گناہ نظر نہیں آیا یہ تو محض حضرت زینب کے شرف اور عظمت کی وجہ سے ہے۔آنحضرت نے یہ سن کر فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ۔ب قَالَ مَقَاتِلُ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى زَيْدًا يَوْمًا فَطَلَبَهُ فَأَبْصَرَ زَيْنَبَ نَائِمَةً وَكَانَتْ بَيْضَاءَ جَمِيْلَةً جَسِيْمَةٌ مِنْ اَتَمَ نِسَاءِ قُرَيْش ( کمالین بر حاشیه جلالین زیر آیت امسک علیک زوجک۔الاحزاب : (۳۸) کہ مقاتل نے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلعم ایک دن زید کے گھر گئے اور وہاں پر زینب کو سوئے ہوئے دیکھا اور وہ گوری حسین اور جسیم تھی قریش کی تمام حسین ترین عورتوں میں سے۔ج۔آنحضرت صلعم کو (نعوذ باللہ ) شیطانی الہام ہوا۔قَدْ قَرَءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى سُوْرَةِ النَّجْمِ بِمَجْلِسٍ مِنْ قُرَيْشٍ بَعْدَ أَفَرَةِ يُتُمُ اللَّتَ وَالْعُزَّى وَمَنْوةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى بِالْقَاءِ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ عِلْمِهِ بِهِ تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلى وَإِنَّ شِفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجِي، فَفَرِحُوْا بِذَالِکَ۔جلالین مجتبائی صفحہ ۲۸۲ مطبوعه ۱۳۰۶ تفسیر زیر آیت النجم:۲۰) صفر ۲۸ زیر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین قریش کی ایک مجلس میں سورۃ النجم کی آیات أَفَرَةِ يُتُمُ اللَّتَ وَالعُری کے آگے القائے شیطانی سے لاعلمی میں یہ پڑھ دیا کہ تِلْكَ الْغُرَانِيقَ العلی کہ یہ تینوں بت بڑی عظمت اور شان والے ہیں اور قیامت کو بھی ان کی شفاعت کی امید رکھنی چاہیے۔بتوں کی یہ تعریف سن کر مشرک بہت خوش ہوئے۔اس کے آگے لکھا ہے کہ بعد میں جبرائیل آئے اور انہوں نے آنحضرت صلعم کو بتایا کہ یہ الہام الہی نہیں بلکہ شیطانی القاء تھا۔اس روایت کی سند کے متعلق مندرجہ ذیل حوالہ کافی ہے