مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 893
893 بجا بجا کر کانگرس کے گیت گانے لگے تو وہ احرار کا صدر ہوگا۔اگر کوئی چودھری افضل حق کے نام سے اخباری زبان میں چلائے کہ کانگریسی لیڈرسرمایہ دار ہیں اور سرمایہ داری کی تخریب مجلس احرار کے مقصد میں شامل ہے تو وہ متفکر احرار کہلائے گا گویا کانگرس کا ہوا خواہ بھی قائد احرار ہے اور کانگرس پر لعنتیں بھیجنے والا بھی زعیم احرار ہے۔اب بتائیے کہ احرار بذات خود کیا ہیں۔“ (روزنامہ زمیندار ۳ جولائی ۱۹۴۱ء) حر بمعنی آزاد عربی زبان کا لفظ ہے اس کی جمع احرار ہے۔پنجاب میں ایک جماعت قائم ہوئی تھی ، اس کا صدر مقام لا ہور رہا ہے۔شروع شروع میں یہ نقال جماعت تھی تحریک کشمیر ختم ہوئی تو اس کی عملی سرگرمیاں بھی ختم ہو گئیں۔مگر دفتر با قاعدہ رہا اور احکام برابر جاری ہوتے رہے لیکن نصب العین کوئی نہ تھا۔اور نہ کوئی لائحہ عمل ، اس لئے جملہ احکام ہوائی تو ہیں ثابت ہوئیں۔نصب العین پوچھو تو کوئی نہیں۔صرف لکیر کے فقیر ہیں اور لفظ ” احرار کی مالا جپ رہے ہیں کوئی پوچھے کہ کانگرسی ہو تو کہتے ہیں کانگرسی کیا ہیں؟ کانگرسیوں کے کرتا دھرتا مہاتما گاندھی یہی غنیمت سمجھتے ہیں کہ زیر سایہ برطانیہ کم از کم سول اتھارٹی ہی مل جائے مگر ہم مکمل آزادی چاہتے ہیں۔کوئی پوچھے کہ لیگی ہو تو کہتے ہیں نہیں۔ہم تو سارے ہندوستان پر حکومت الہیہ چاہتے ہیں۔اگر کوئی سر پھرا کہہ دے کہ کچھ کر کے بھی دکھائے تو فرماتے ہیں کہ ہندو قوم ساری کانگرس کے ساتھ ہے اور مسلمان قوم تمام کی تمام لیگ سے جاملی ہے ہم کریں تو کیا کریں؟“ (روزنامہ زمیندار ۲ فروری ۱۹۴۹ء)۔آٹھ اور آٹھ سولہ دن ہوئے کہ پنجاب میں ایک نئی پارٹی نے جنم لیا ہے قارئین کرام اس چوں چوں کے مربے سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اس میں کون کون اتو باٹے اکٹھے ہوئے ہیں۔۔۔۔اس کا نام ہے " مجلس احرار۔یہ جماعت معرض ظہور میں کیوں آئی اس کا جواب دینا ضروری ہے اس کے شرکاء وہ لوگ ہیں جو کبھی ملی کانگرس کے دامن سے وابستہ تھے اور ان کے باپو گاندھی جی مہاراج کی کر پا سے انہیں بھوجن اور پوشن مل جایا کرتا تھا لیکن جہاں کانگرس کا کام تمام ہوا۔کانگرس سے انہیں طلاق مل گئی اور ان کا روزینہ بند ہو گیا۔کانگرس سے الگ ہو کر ان کے پاس سوائے ازیں کوئی چارہ کارنہ تھا کہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کوئی نیا پھندا پھیلا ئیں۔لہذا انہوں نے مجلس احرار اسلام کی طرح ڈالی۔۔۔۔عوام حیران ہیں کہ آخر ان احراریوں کو کیا ہو گیا جو یکدم مہاراجہ (کشمیر) کے اشارے پر ناچنے لگ گئے ! کسی نے خوب کہا ہے کہ