مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 870
870 آدم علیہ السلام کی اولاد میں ہونے والے سب نبیوں کی تصویریں تھیں۔پس وہ صندوق اولا د آدم میں بطور ورثہ چلتا چلا آیا۔یہاں تک کہ حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا۔“ و تفسیر بیضاوی میں تابوت سکینہ“ (سورة البقرة : ۲۵۰) کی تشریح میں لکھا ہے:۔قِيلَ صُوَرُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ آدَمَ إِلى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِيْلَ التَّابُوْتُ هُوَ الْقَلْبُ۔( بیضاوی جلد اصفحه ۱۸ مطبع احمدی) یعنی آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک سب انبیاء علیہم السلام کی تصویریں اس صندوق میں تھیں اور بعض نے کہا ہے کہ تابوت سے مراد دل ہے۔۳۔اسی طرح سورۃ البقرۃ: ۳۳۶۲۵۰ کی آیت:۔" أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ فِيهِ سَكِيْنَةٌ مِنْ ذَيْكُمْ “ کی تفسیر میں لکھا ہے۔تابوت سکینتہ اور وہ ایک صندوق تھا کہ سب انبیا علیہم السلام کی تصویر یں اس میں بنی ہوئی تھیں۔“ ( تفسیر قادری ترجمہ اردو تفسیر حسینی زیر آیت البقرة : ۲۵۰) ۴۔اصل بات یہ ہے کہ تصویر اور فوٹو میں بار یک امتیاز ہے۔ممنوع تصویر ہے فوٹو نہیں۔تصویر سے مراد ابھری ہوئی صورت“ یعنی ”بت“ ہے۔فوٹو درحقیقت تصویر نہیں بلکہ عکس ہوتا ہے اور فوٹو گرافی کو عکاسی“ کہتے ہیں۔چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی مندرجہ ذیل تشریح درج ہے:۔إِنَّهُ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ يُرِيدُ السَّمَاثِيلَ الَّتِي فِيهَا الأَرْوَاحُ۔(بخارى كتاب بدء الخلق باب اذا قَالَ أَحَدُكُمُ آمين ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ فرشتے اس مکان میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد لفظ ” تصویر سے وہ بت ہیں جن کے بارے میں مشرکین کا عقیدہ تھا کہ ان میں روحیں ہیں۔۵۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اس اعتراض کا مفصل جواب براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۶۵ تا ۳۶۷ پر تحریر فرمایا ہے۔وہاں سے دیکھا جائے۔۲۸۔وفات مرزا صاحب کی وفات ہیضہ سے ہوئی۔سیرت مسیح موعود مؤلفہ حضرت مرزا محمود احمد صاحب