مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 860 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 860

860 وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ فَافْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَ ذَالِكَ فِي رَمَضَانَ۔“ (بخاری کتاب الصوم باب مَنْ أَفْطَرَ فِي السَّفْرِ لِيَرَاهُ النَّاسُ ومسلم كتاب الصيام باب جواز الصوم والفطر۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی آنحضرت صلحم مدینہ سے روزہ رکھ کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔مقام عسفان پر پہنچ کر حضور صلعم نے پانی منگوایا اور پھر پانی کو اپنے دونوں ہاتھوں سے اس غرض سے اونچا اٹھایا کہ سب لوگ آپ کو پانی پیتے ہوئے دیکھ لیں۔پھر آپ نے روزہ توڑ دیا اور یہ واقعہ رمضان کے مہینہ میں ہوا۔نوٹ:۔یہ واقعہ حدیبیہ کے سفر کا ہے۔اس حدیث پر علماء نے بہت طول وطویل بحثیں کی ہیں۔بعض علماء کا خیال یہ ہے۔أَنَّهُ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَمَّا بَلَغَ كُرَاعَ الْعَمِيمِ فِي يَوْمِهِ أَفْطَرَ فِي نَهَارِهِ وَاسْتَدَلَّ بِهِ هَذَا الْقَائِلُ عَلَى أَنَّهُ إِذَا سَافَرَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجَرِ صَائِمًا لَهُ أَنْ يُفْطَرَ فِي يَوْمِهِ۔“ (مسلم) كتاب الصوم بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِى شَهْرٍ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرٍ۔۔۔۔الخ حاشیه نووى) ود یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس روز مدینہ سے روانہ ہوئے اسی روز اس مقام پر پہنچ کر دن کے وقت ہی روزہ توڑ ڈالا۔اور اس سے ان لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ جو شخص طلوع فجر کے بعد روزہ رکھ کر سفر پر نکلے اس پر واجب ہے کہ وہ دن ہی میں روزہ توڑ دے۔لیکن جن علماء نے اس سے اختلاف کی ہے ان کا خیال ہے لَا يَجُوزُ الْفَطْرُ فِي ذَالِكَ الْيَوْمِ وَ إِنَّمَا يَجُوزُ لِمَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجَرُ فِي السَّفَرِ۔“ (ايضاً ) یعنی روزہ کی حالت میں سفر پر نکلنے والوں کے لیے اس دن روزہ رکھنا جائز نہیں بلکہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر سفر کی حالت میں صبح طلوع کرے تو مسافر کے لیے جائز ہے کہ روزہ نہ رکھے۔مطلب یہ ہے کہ اس خیال کے علماء کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رمضان کے مہینے میں دن کے وقت تمام لوگوں کو دکھا کر پانی پیا تھا وہ سفر کا پہلا دن نہیں بلکہ دوسرا دن تھا اور آپ نے دوسرے دن روزہ نہیں رکھا تھا۔یہاں ہمیں علماء کے اس اختلاف میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔جو بات بہر حال ثابت ہے