مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 861 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 861

861 اور جس سے کسی عقیدہ یا خیال کے عالم کو بھی اختلاف نہیں ہو سکتا وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینہ میں سفر کی حالت میں نہ صرف یہ کہ روزہ نہیں رکھا بلکہ تمام لوگوں کو دکھا کر دن کے وقت پانی پیا۔اس حدیث کے الفاظ فَرَفَعَهُ إِلى يَدَيْهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ “ اس ضمن میں بالکل واضح ہیں۔یہاں تک کہ امام بخاری نے تو باب کا عنوان ہی ”مَنْ اَفْطَرَ فِی السَّفَرِ لِيَرَاهُ النَّاسُ“ رکھا ہے۔یعنی و شخص جو رمضان میں لوگوں کو دکھا کر کھانا کھائے۔ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت سے قطعی طور پر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اگر کوئی مسافر رمضان میں عام لوگوں کے سامنے کھائے پیئے تو اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔اور اس پر عدم احترامِ رمضان کا خود ساختہ نعرہ لگانا جائز نہیں۔در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی امرتسر میں اپنے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی سنت پر عمل فرمایا اور لوگوں کے سامنے سفر کی حالت میں چائے پی لی۔یہ اعتراض کرنے والے احراری اگر سفر حدیبیہ کے وقت مقام عسفان پر موجود ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کرنے سے بھی باز نہ آتے۔"6 و مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُحْصَةَ اللَّهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ۔( مسند احمد بن حنبل "مسند عبد اللہ بن عمر حدیث نمبر ۵۳۶۹ حوالہ جامع الصغير السيوطى باب الميم جلد ٢) و یعنی جو کوئی اللہ کی دی ہوئی رخصتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتا اس پر عرفہ پہاڑ کے برابر گناہ ہے۔“ ز او پر بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا جا چکا ہے۔اب اُمت محمدیہ کے مایہ ناز ولی اللہ حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کا بھی ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے:۔یاد رہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ اس شان کے بزرگ ہیں کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی نسبت فرمایا ہے:۔أبُو يَزِيدَ مِنَّا بِمَنْزِلَةِ جِبْرِيلَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ » یعنی ابو یزید ہمارے اولیاء امت کے درمیان ایسا ہے کہ جیسے جبرائیل فرشتوں میں۔تلخیص از کشف الحجوب مصنفہ حضرت داتا گنج بخش مترجم اردو تیسری فصل۔شیخ ابوحدان کی ملامت کی حقیقت) علاوہ ازیں خود حضرت داتا گنج بخش صاحب نے حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کے