مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 830
830 جواب:۔ہر طالب علم ضروری تو نہیں کہ تمہارے جیسا ہو۔بعض ہونہار اور نیک طالبعلم ایسے بھی ہوتے ہیں جو کبھی بھی استاد سے مار پٹنے تک نوبت نہیں آنے دیتے بلکہ استادان کی عزت کرتے ہیں لیکن اگر محض احتمال اور فرضی قیاس آرائی پر بنیا درکھنا جائز ہو تو پھر تو یہ بھی کہو کہ کسی نبی کا باپ ، ماں بڑا بھائی ، دادا، چا کوئی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بچپن میں ان بزرگان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھوں کان کھنچوانے اور مار پیٹنے کا خطرہ اور احتمال ہے۔خیر یہ تو بچپن میں مار کھانے کا قصہ ہے لیکن قرآن مجید میں تو لکھا ہے کہ ایک نبی نے بڑے ہو کر بلکہ نبی بن کر اپنے چھوٹے بھائی موسی سے ڈاڑھی اور سر کے بال نچوائے۔ملاحظہ ہو:۔وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمُ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُوْنَنِي فَلَا تُشْمِتْ فِي الْأَعْدَاء (الاعراف: ۱۵۱) کہ موسیٰ نے (غصہ کی حالت میں ) اپنے بھائی ( ہارون ) کا سر پکڑ کر اسے اپنی طرف جھٹکا دیا تو حضرت ہارون نے کہا ”اے میری ماں کے بیٹے ! مجھے قوم نے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ وہ مجھے قتل کر دیتے۔پس تو دشمنوں کو خوشی نہ دکھا۔نیز ملاحظہ ہو سورۃ طہ: ۹۵۔قَالَ يَبْنَؤُم لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِى وَلَا بِرَأْسِى (طه: ۹۵) کہ اے میری ماں کے بیٹے ! میری داڑھی اور میرے سر کے بال نہ پکڑ ! مگر با وجود اس شماتت اعداء اور مار پیٹ کے ہارون نبی کے نبی ہی رہے۔یہ تو قرآن ہے مگر یہاں احراری امیر شریعت کی عقل کے رو سے کوئی نبی پڑھا لکھا نہیں ہو سکتا محض اس خوف سے کہ کہیں بچپن میں استاد سے مارنہ کھا بیٹھے پھر بڑا ہو کر کیا کرے گا؟ ۲۔پھر حضرت مسیح موعود کے اساتذہ تو ہمیشہ آپ کی عزت کرتے تھے اور ہرگز ثابت نہیں کہ حضور کوکسی استاد نے کبھی ایک دفعہ بھی مارا ہو۔پس محض فرضی احتمالات و قیاسات پر اعتراضات کی بنیاد رکھنا اور واقعات کو نظر انداز کر دینا کسی معقول انسان کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔۱۳۔نبی کا نام مرکب نہیں ہوتا۔مرزا صاحب کا نام مرکب تھا ؟ الجواب:۔۱۔یہ معیار کہاں لکھا ہے۔بھلا نام کے مرکب یا مفرد ہونے کا نبوت کے ساتھ کیا تعلق؟ ۲۔قرآن مجید میں ہے۔اِذْ قَالَتِ الْمَلَكَهُ يُمَرْيَمُ إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ منه اسْمُهُ الى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا ( ال عمران : ۴۶) اس آیت میں