مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 827
827 وَسَلَّمَ عَلَى اسْتِحْبَابِ الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ وَاسْتِحْبَابِ الْإِسْتِكْثَارِ مِنْهُ وَإِنَّهُ يَسْتَحِبُّ لِلْعَالِمِ وَإِنْ كَانَ مِنَ الْعِلْمِ بِمَحَلَّ عَظِيمٍ اَنْ يَّاخُذَهُ مِمَّنْ هُوَ اَعْلَمُ مِنْهُ وَيَسْعَى إِلَيْهِ فِي تَحْصِيلِهِ وَ فِيهِ فَضِيلَةُ طَلَب العِلْم۔“ (حاشيه النووى على مسلم كتاب الفضائل باب فضائل زكريا و الخضر) یعنی موسیٰ علیہ السلام کے خضر کی ملاقات کی درخواست کرنے سے علماء نے اس بات کی دلیل لی ہے کہ طلب علم کے لئے سفر کرنا اور حصول علم کے لئے بار بار درخواست کرنا جائز ہے۔نیز یہ کہ اگر چہ کوئی خود کتنا ہی بڑا صاحب علم کیوں نہ ہو پھر بھی اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے سے زیادہ علم رکھنے والے سے علم حاصل کرے اور حصول علم کی غرض سے کوشش کر کے اس کے پاس جائے۔نیز اس سے علم کے سیکھنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔۶- تفسیر سعیدی ترجمه اردو تفسیر قادری حسینی جلد ۲ صفحہ ۱۵ میں ہے:۔ر سول ایسا چاہیے کہ جن کی طرف بھیجا گیا ہے ان سے ان اصول و فروع دین کا عالم زیادہ ہو جو ان کی طرف لایا ہے اور جو علم اس قبیل سے نہیں اس کی تعلیم امور نبوت کے منافی نہیں اور انتم أَعْلَمُ بِأَمُورِ دُنْيَا كُمُ اس قول کا مؤید ہے۔( جلد اصفحہ ۶۳۸ الکھف: ۶۶، ۶۷) ے تفسیر بیضاوی میں ہے:۔وَلَا يُنَافِي نُبُوَّتَهُ وَ كَوْنَهُ صَاحِبَ شَرِيعَةٍ اَنْ يَّتَعَلَّمَ مِنْ غَيْرِهِ مَا لَمْ يَكُنْ شَرْطًا فِي أَبْوَابِ الدِّينِ۔بیضاوی زیر آیت هَلْ اتَّبِحُكَ الى الكهف : ٦٧) یعنی حضرت موسی کا کسی غیر سے ایسا علم سیکھنا جو امور دین میں سے نہ ہو۔ان کی نبوت اور ان کے صاحب شریعت ہونے کے منافی نہیں ہے ( یعنی نہ صرف نبی بلکہ صاحب شریعت نبی بھی دوسرے علوم میں دوسروں کا شاگر دہوسکتا ہے۔) تفسیر الجلالین الکمالین از علامہ جلال الدین سیوطی میں زیر آیت الکھف : اے لکھا ہے:۔فَقَبِلَ مُوسَى شَرْطَهُ رِعَايَةً لَا دَبِ الْمُتَعَلِمَ مَعَ الْعَالِمِ۔زیر آیت حَتَّى أحدث لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا - الكهف: ١ ) کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خضر کی پیش کردہ شرط اسی طرح قبول کر لی جس طرح ایک