مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 828
828 شاگرد اپنے استاد کی شرط کو کمال ادب سے قبول کیا کرتا ہے۔۹۔یادر ہے کہ خضر کے نبی ہونے میں بھی اختلاف ہے جلالین میں ہے:۔نُبُوَّةً فِي قَولٍ وَ وِلَايَةٌ فِي آخِرٍ وَعَلَيْهِ اَكْثَرُ الْعُلَمَاءِ۔جلالین زیر آیت فَوَجَدَا عَبْدًا - الكهف:۲۲ نیز دیکھو ای نووی علی لمسلم - فضائل زكريا والخضر عليهما السلام) یعنی علماء کی اکثریت اس طرف ہے کہ خضر نبی نہیں بلکہ ولی تھے۔۱۲۔کیا کوئی نبی لکھا پڑھا نہیں ہوسکتا غیر احمدی : ” آج تک کوئی نبی لکھا پڑھا نہیں آیا اور نہ کسی نبی نے کوئی کتاب لکھی۔“ جواب:۔ایسا کہنا صریح جہالت ہے کیونکہ ایسی “ ہونا تو صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے۔اگر ہر نبی ہی ”اُمی“ ہو تو پھر آپ کی یہ خصوصیت کیونکر ہوئی؟ اور پھر النَّبِيَّ الْأُمِي الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَةِ وَالْإِنْجِيلِ (الاعراف: ۱۵۸) فرمانے کی کیا ضرورت تھی ؟ چنانچہ لکھا ہے:۔ا۔پڑھا لکھا ہونا منصب نبوت کے خلاف نہیں ہے۔حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کے حالات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پڑھے لکھے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کہ ہر نبوت کی تفصیل شرح اور علوم باطنی کے حقیقی راز دان تھے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعلیم کے سوا کسی غیر کی تعلیم کا منت کش ہونا گوارا نہ فرمایا۔چنانچہ گذشتہ آسمانی کتب میں بھی امی کے لقب کے ساتھ آپ کو بشارتیں دی ہیں۔تاریخ القرآن مصنفہ حافظ محمد اسلم صاحب ہے۔راج۔پوری مکتبہ جامعہ نئی دہلی صفحه ۱۳ صفحه ۱۴ باختلاف الفاظ مطبوعه مطبع ۲ تفسیر حسینی میں ہے:۔فیض عام علی گڑھ ۱۳۲۶ھ زیر عنوان " تمہید صفحه ۸) حضرت موسیٰ اور حضرت داؤد علیہما السلام پر کتاب جو ایک بار اتری تو وہ لکھتے پڑھتے تھے اور ہمارے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ اجمعین امی تھے۔“ ( تفسیر حسینی مترجم اردو جلد ۲ صفحه ۴۰ از بیر آیت رله ترتيلا الفرقان: ۳۳) ۳۔بیضاوی میں آیت مندرجہ بالا (الفرقان : ۳۳) کے ماتحت لکھا ہے:۔وَكَذَالِكَ اَنْزَلْنَاهُ مُفَرِّقًا لِنُقَوّى بِتَفْرِيْقِهِ فُؤَادَكَ عَلَى حِفْظِهِ وَفَهُمِهِ لَانَّ حَالَهُ