مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 45
45 کیا لطیف مشابہت ہے اور طرز بیان کا کمال۔بیل گائے ماں بہن کا امتیاز نہیں رکھتے۔صرف نسل بڑھانا مقصود ہوتا ہے۔۔نیوگ شہوت مٹانے کا آلہ ہے۔ملاحظہ ہو حوالجات ذیل: مرد عورت کے رنڈوے یا بیوہ ہونے سے قطع نسل سے بچنے کا علاج پنڈت دیانند جی مہاراج یوں فرماتے ہیں کہ اگر خاندان کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے کسی اپنی ذات کا لڑکا گود لے لیں گے اس سے خاندان چلے گا اور زنا کاری بھی نہ ہوگی اور اگر بر بیچر یہ نہ رکھ سکیں تو نیوگ کر کے اولاد پیدا کر لیں۔(ستیارتھ ب ۴ دفعه ۱۱۰) ۹۔زنا اور نیوگ کا طریق اور قواعد یکساں ہیں۔ملاحظہ ہوں ذیل کے حوالے۔” بیاہ کرنے میں لڑکی اپنے باپ کا گھر چھوڑ کر خاوند کے گھر جاتی ہے اور اس کا باپ سے زیادہ تعلق نہیں رہتا مگر نیوگ کی صورت میں عورت اسی بیا ہے خاوند کے گھر میں رہتی ہے۔“ یہی زنا میں ہوتا ہے۔اور سنو :۔(ستیار تحب ۴ دفعه ) ۱۰۔اس بیا ہی عورت کے لڑکے اسی بیا ہے خاوند کے وارث ہوتے ہیں مگر نیگتا عورت ( جس نے نیوگ کیا ہو ) کے لڑکے ویرج داتا کے نہ بیٹے کہلاتے ہیں ( درانحالیکہ عورت سے نیوگ اپنی اولاد کے لئے کیا ہو ) نہ اس کا گوتر ہوتا ہے اور نہ اس کا اختیار ان لڑکوں پر ہوتا ہے بلکہ وے متوفّی خاوند کے بیٹے کہلاتے ہیں۔اس کا گوتر ذات ہوتا ہے اور اس کی جائیداد کے وارث ہو کر اسی گھر میں رہتے ہیں۔“ (ستیارتھ ب ۴ دفعه ۱۱۹) زنا میں بھی یہی ہوتا ہے۔اگر کسی کی بیوی سے کسی کا ناجائز تعلق ہو تو اس عورت کی اولا د اپنے خاوند کی اولاد سمجھی جاتی ہے اور اسی کی وارث ہوتی ہے۔حالانکہ قانونا اور اخلاقاً جس کا نطفہ ہو۔اسی کی گوتر اور وارث ہوتا ہے۔مگر مخفی یا رانہ کی وجہ سے چونکہ ظاہر نہیں ہوتا اس لئے ایسا واقع ہوتا ہے۔ورنہ دنیا کے کسی خطہ کا قانون ابھی تک اس قسم کے کرایہ کے نطفہ کو جائز قرار نہیں دیتا بلکہ اس کو نا جائز اور حرام کی ولادت قرار دیتا ہے۔اس تعلیم کی رو سے تمام آریوں کی ولادت مشکوک ہو جاتی ہے۔ابھی اور سنو۔ا بیا ہی عورت مرد کو باہم خدمت اور پرورش کرنی لازم ہے مگر نیوگ شدہ عورت کا اس قسم کا