مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 42 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 42

42 اُن کی استطاعت رکھتے ہوں۔پس ویدک تعلیم عالمگیر الہامی نہ رہی۔۱۰۔نیک نیت اور مذہبی آریہ کوسندھیا او پاسنا کرنا اور پانچ مہا یکیوں کا ادا کرنا ایسا ضروری ہے۔جیسا سانس پر سانس لینا ضروری ہے۔(ستیارتھ باب ۳ دفعه ۴۴ ) پس جو آریہ سانس پر سانس لیتا مگر سندھیا و<mark>غیر</mark>ہ بطریق مذکورہ بالا نہیں کرتا اور چار سو سال کا نہیں ہوتا کیا وہ نیک آریہ ہے؟ یا وہ شودر ہے۔( بقول ستیارتھ ب ۴ دفعہ ۳۸) پانچ مہا ئیکیوں (فرائض ) میں سے دوسرا فرض ویدوں کو انگوں سمیت با قاعدہ پڑھنا اور سندھیا او پاسنا کرنا فرض ہے۔چھ انگ یہ ہیں۔ا۔سنگشا (علم قراء ت )۔۲- کلپ (سنسکاروں یعنی رسوم کے متعلق ہدایات اور ہر سنسکار کے متعلق ویدوں سے منتروں کا انتخاب ) ۳۔چھند و علم عروض۔۴۔دیا کرن (علیم صرف ونحو )۔۵۔نرکت (علم لغت )۔۶۔جوتش (علم ہندسہ و ہیئت ) جس میں ریاضی کی تمام شاخیں یعنی حساب - مساحت و<mark>غیر</mark>ہ علم طبقات الارض و جیالوجی اور جغرافیہ اور باقی تین فرائض اور ہیں جو ہم بخوف طوالت نہیں لکھ سکتے۔جبکہ یہ لوگ عملاً آریہ ہی نہیں تو پھر نا حق تضیع اوقات ہے۔۱۔جو بطریق مذکورہ بالا سندھیا و<mark>غیر</mark>ہ نہیں کرتا اور چھ سال کے اندر وید ختم نہیں کرتا۔اُس کو (ستیارتھ ب ۳ دفعه ۴۷ ) گھر سے نکال کر شودروں کے گھروں میں بھیج دینا چاہیے۔۱۲۔بعد ازاں بوڑھے والدین اپنی خدمت کے لئے <mark>غیر</mark>وں کے لڑکے رکھ لیں اور انہیں بیٹے تصور کر لیں۔(ستیار تحب ۴ دفعه ۱۱۰) <mark>غیر</mark>وں کے جوان لڑکے اس بوڑھے کے گھر میں رہ کر کیا کچھ نہ کریں گے۔ناظرین خود سمجھ لیں۔۱۳۔ساز بجانا، ناچنا، گیت گانا ہر لگانا و<mark>غیر</mark>ہ آریوں کو ضرور سیکھنا چاہیے (ستیارتھ ب ۳ دفعہ ۱۰۲) مگر اسی ستیارتھ ایڈیشن چہارم میں سوامی جی ب۳ دفعہ ۴۸ پر ساز بجانے ، ناچنے و<mark>غیر</mark>ہ کو شہوانی عادات قرار دیتے ہیں۔۱۴۔برہمنوں کے گواہ برہمن اور شودروں کے گواہ شود را اور عورتوں کی گواہ عورتیں ہی ہوا کریں۔(ستیار تھب ۶ دفعه ۶۳) اگر کوئی برہمن یا ولیش شودروں کے محلہ میں جا کر <mark>کس</mark>ی کنیا کو نا پاک کر نکلے یا کوئی عورت شودر برہمنوں کے محلہ میں <mark>کس</mark>ی کا گلا گھونٹ جائے تو کیا اس کو رہائی دے دیں۔کیونکہ کوئی عورت یا اس کی ذات کا گواہ میسر نہیں آسکتا ؟ خدا اس قانون والوں کو طاقت نہ دے۔