مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 782 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 782

782 طرف سے اجازت ہے۔“ (اشتہار۲۰ فروری ۱۸۹۳ء نیز تذکره صفحه ۳۲۱ طبع سوم، تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحریم ) اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اشتہار ۲۰ جنوری ۱۸۹۹ء یعنی عدالت میں معاہدہ زیر اعتراض کرنے۔(۲۴ فروری ۱۸۹۹ء) سے ایک ماہ قبل تحریر فرماتے ہیں :۔کہ میرا ابتدا ہی سے یہ طریق ہے کہ میں نے کبھی کوئی انداری پیشگوئی بغیر رضا مندی مصداق پیشگوئی کے شائع نہیں کی۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۲۸۷) غرضیکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق ابتداء ہی سے یہ تھا کہ ابتداء اپنی طرف سے نہ کرتے تھے بلکہ فریق مخالف کی رضا مندی حاصل کر کے اس کو شائع فرماتے تھے۔اس وقت عدالت کا معاہدہ تو کوئی نہ تھا۔پس جب سالہا سال بعد عدالت میں یہی طریق فیصلہ قرار پایا تو حضور نے اس کو اپنے سابقہ طرز عمل کے مطابق پاکر اس کا اقرار کر لیا جس میں خوف کا کوئی دخل نہ تھا۔اگر مجسٹریٹ کسی شخص سے یہ کہے کہ تم سچ بولنے یا نماز پڑھنے کا اقرار کرو۔اس پر ایک ایسے شخص کا اقرار جو پہلے ہی سچ بولتا اور نماز پڑھتا ہو۔بزدلی یا ڈر نے پر محمول نہ ہوگا بعینہ اسی طرح حضرت اقدس علیہ السلام کا اقرار آپ کے سابقہ طرز عمل کے عین مطابق ہونے کے باعث محل اعتراض نہیں ہوسکتا۔جواب نمبر ۲۔لیکن تم ذرا مندرجہ ذیل امور کے متعلق بھی اپنے رائے کا اظہار کرو۔بخاری میں ہے:۔عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَأَلْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجِدَارِ آمِنَ الْبَيْتِ هُوَ؟ قَالَ نَعَمُ۔۔۔۔۔قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفَعًا؟ قَالَ فَعَلَ ذَالِكَ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُ وُا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَآءُ وُا وَلَوْ لَا اَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ اَنْ اُدْخِلَ الْجَدُرَ فِى الْبَيْتِ وَاَنْ الْصِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ۔(بخاری كتاب الحج باب فضل مكة و بنيانها والبقرة : ١٢٦ تا ١٢٩) ترجمہ:۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کعبہ کی دیوار کے متعلق دریافت کیا کہ کیا وہ بھی کعبہ میں داخل ہے تو آپ نے فرمایا۔”ہاں“۔پھر میں نے عرض کی کہ دروازہ کی کیا کیفیت ہے یہ اس قدر اونچا کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا۔یہ تمہاری قوم نے اس لئے کیا کہ جسے چاہیں کعبہ میں داخل کریں اور جس کو چاہیں روک دیں۔اگر تمہاری قوم کا