مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 783
783 زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتا اور مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ وہ اس کو برا منائیں گے۔تو میں ضرور دیوار کو کعبہ میں داخل کر دیتا۔اور اس کے دروازے کو زمین سے ملا دیتا“۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر تیری قوم جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو کعبہ کو گرا کر اس کے دو دروازے بناتا۔ایک شرقی دروازہ اور ایک غربی دروازہ۔“ کی گئی ہے۔تجرید بخاری مترجم اردو کتاب الحج باب وجوب الحج و فضله نیز دیکھو جامع ترمذی كتاب الحج باب وما جاء في كسر الكعبة) اس میں عوام کے خوف سے دیوار کعبہ کے متعلق نہایت مفید خواہش کی تکمیل سے کنارہ کشی جواب نمبر۳ صلح حدیبیہ کا واقعہ سب کو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ بسم الله الرحمن الرحیم اور رسول اللہ کٹوا دیا اور اس شرط پر صلح کی کہ اگر کوئی غیر مسلموں میں سے مسلمان ہو کر ہمارے پاس آئے گا تو ہم اس کو واپس کر دیں گے، لیکن اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر کافروں کے پاس چلا جائے تو وہ اسے واپس نہ کریں نیز یہ کہ طواف کعبہ بھی اس سال نہ ہو گا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس معاہدہ کے بعد واپس چلے گئے۔یہ واقعہ بخاری ومسلم میں موجود ہے۔اور مشكواة باب الصلح الفصل الاول - تجرید بخاری مترجم اردو جلد ۲ صفحہ ۱۶ میں بھی ہے لیکن اس جگہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مندرجہ ذیل الفاظ درج کئے جاتے ہیں جو لکھا ہے کہ آپ نے صلح نامہ کی تحریر کے وقت کہے لکھا ہے:۔وَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ۔فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَيْسَ بِرَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَ بَلَى قَالَ أَوَ لَسُنَا بِالْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ بَلَى قَالَ اَوَ لَيْسُوا بِالْمُشْرِكِيْنَ؟ قَالَ بَلَى قَالَ فَعَلَّامَ نُعْطِيَ الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ؟ قَالَ أَبُو بَكْرِ يَا عُمُرُ الْزِمُ غَرُزَهُ فَاِنّى اَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ۔قَالَ عُمَرُ وَ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُوْلُ اللَّهِ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْتَ بِرَسُول اللَّهِ؟ قَالَ بَلَى قَالَ اَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِيْنَ؟ قَالَ بَلَى قَالَ أَوْ لَيْسُوا بِالْمُشْرِكِيْنَ؟ قَالَ بَلَى قَالَ فَعَلَّامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا۔“ (سیرۃ ابن ہشام عربی جلد ۳ صفحه ۱۱۸۲امر احد نه مطبوعہ دار الكتب العلمیة بیروت لبنان)