مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 759
759 چاہتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مومنوں پر واجب ہے جو ان سے لڑیں اگر وہ باز نہ آویں۔“ نور الحق حصہ اول روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۶۲) در شریعت اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے۔جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں۔۔قطعی حرام ہے“۔(تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۶۵) ھ۔” اس زمانہ کے نیم ملا فی الفور کہہ دیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبراً مسلمان کرنے کے لئے تلوار اُٹھائی تھی اور انہی شبہات میں نا سمجھ پادری گرفتار ہیں مگر اس سے زیادہ کوئی جھوٹی بات نہیں ہوگی کہ یہ جبر اور تعدی کا الزام اُس دین پر لگایا جائے جس کی پہلی ہدایت یہی ہے له لا إكْرَاة في الدين یعنی دین میں جبر نہیں چاہیے بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بزرگ صحابہ کی لڑائیاں یا تو اس لئے تھیں کہ کفار کے حملہ سے اپنے تئیں بچایا جائے اور یا اس لئے تھیں کہ امن قائم کیا جائے اور جو لوگ تلوار سے دین کو روکنا چاہتے ہیں ان کو تلوار سے پیچھے ہٹایا جائے مگر اب کون مخالفوں میں سے دین کے لئے تلوار اُٹھاتا ہے اور مسلمان ہونے والے کو کون روکتا ہے اور مساجد میں نماز پڑھنے اور بانگ دینے سے کون منع کرتا ہے۔پس اگر ایسے امن کے وقت میں ایسا مسیح ظاہر ہو کہ وہ امن کا قدر نہیں کرتا بلکہ خواہ نخواہ مذہب کے لئے تلوار سے لوگوں کو قتل کرنا چاہتا ہے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بلاشبہ ایسا شخص جھوٹا کذاب مفتری اور ہرگز سچا مسیح نہیں ہے۔مجھے تو خواہ قبول کر دیا نہ کرو مگر میں تم پر رحم کر کے تمہیں سیدھی راہ بتلاتا ہوں کہ ایسے اعتقاد میں سخت غلطی پر ہو۔لاٹھی اور تلوار سے ہرگز ہرگز دین دلوں میں داخل نہیں ہو سکتا اور آپ لوگوں کے پاس ان بیہودہ خیالات پر دلیل بھی کوئی نہیں۔صحیح بخاری میں مسیح موعود کی شان میں صاف حدیث موجود ہے کہ يَضَعُ الْحَرُبَ یعنی مسیح موعود لڑائی نہیں کرے گا تو پھر کیسے تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو آپ لوگ اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ صحیح بخاری قرآن شریف کے بعد اصح الکتب ہے اور دوسری طرف صحیح بخاری کے مقابل پر ایسی حدیثوں پر عقیدہ کر بیٹھتے ہیں کہ جو صریح بخاری کی حدیث کے منافی پڑی ہیں۔چاہیے تھا کہ اگر کروڑ ایسی کتاب ہوتی تب بھی اس کی پرواہ نہ کرتے کیونکہ ان کا مضمون نہ صرف صحیح بخاری کی حدیث کے منافی بلکہ قرآن شریف سے بھی صریح مخالف ہے۔“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۸-۱۵۹)