مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 758
758 اس کی صحت اور درستی میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔حضرت مرزا صاحب کا فتویٰ حضرت مرزا صاحب نے ممانعت جہاد کا جو فتویٰ دیا ہے وہ بعینہ وہی ہے جو حضرت سید احمد بریلوی اور ان کے خلیفہ سید اسمعیل شہید نے دیا تھا اور آپ کے بھی بعینہ وہی دلائل ہیں جو ان بزرگان کے ہیں۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔نادان مولوی نہیں جانتے کہ جہاد کے واسطے شرائط ہیں۔سکھا شا ہی لوٹ مار کا نام جہاد نہیں اور رعیت کو اپنی محافظ گورنمنٹ کے ساتھ کسی طور سے جہاد درست نہیں“۔ب۔پھر فرماتے ہیں :۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۳۸۲) بعض نادان مجھ پر اعتراض کرتے ہیں جیسا کہ صاحب المنار نے بھی کیا کہ یہ شخص انگریزوں کے ملک میں رہتا ہے اس لئے جہاد کی ممانعت کرتا ہے یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر میں جھوٹ سے اس گورنمنٹ کو خوش کرنا چاہتا تو میں بار بار کیوں کہتا کہ عیسی بن مریم صلیب سے نجات پا کر اپنی موت طبعی سے بمقام سری نگر کشمیر مر گیا اور نہ وہ خدا تھا اور نہ خدا کا بیٹا۔کیا انگر یز مذہبی جوش والے میرے اس فقرہ سے مجھ سے بیزار نہیں ہوں گے؟ پس سنو! اے نادانوں میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسی گورنمنٹ سے جو دین اسلام اور دینی رسوم پر کچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کے لئے ہم پر تلوار میں چلاتی ہے قرآن شریف کے رو سے جنگ مذہبی کرنا حرام ہے کیونکہ وہ بھی کوئی مذہبی جہاد نہیں کرتی۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۷۵ حاشیہ ) ج۔پھر فرماتے ہیں :۔جاننا چاہیے کہ قرآن شریف یوں ہی لڑائی کے لئے حکم نہیں فرما تا بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو ایمان لانے سے روکیں اور اس بات سے روکیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کاربند ہوں اور اس کی عبادت کریں اور ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنوں کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبراً اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا