مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 750
750 کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ہم کافروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں جیسا کہ وہ ہمارے ساتھ کرتے ہیں اور جب تک وہ ہم پر تلوار نہ اٹھا ئیں ہم بھی اس وقت تک ان پر تلوار نہ اٹھائیں۔یادر ہے کہ یہ عبارت اسی حقیقۃ المہدی کی ہے جس کے صفحہ کا حوالہ معترضین دیتے ہیں۔اس عبارت سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کفار کی تلوار کے مقابلہ میں تلوار اٹھانے کے مسئلہ کے قائل ہیں اور قرآنی حکم دربارہ جہاد کو ہرگز منسوخ نہیں سمجھتے۔بلکہ لفظ امـرنـا فرما کر اس امر کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ ہم اس امر کے لئے مامور ہیں کہ اگر کفارا سلام کے خلاف تلوار اٹھا ئیں گے تو ہم بھی جوابی طور پر ان کے ساتھ تلوار سے جہاد کریں گے۔پس معترضین کے پیش کردہ حوالہ میں جو لفظ ” موقوف“ استعمال ہوا ہے تو اس کے صرف یہی معنی ہیں کہ چونکہ اس وقت کفار کی طرف سے اسلام کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی جارہی اس لئے قرآنی تعلیم کی رو سے اس وقت مسلمانوں کے لئے تلوار اٹھانا موقوف ہے۔اس وقت تک کہ کفار تلوار اٹھا ئیں۔کیونکہ از روئے قرآن وحدیث ”جہاد بالسیف مشروط ہے۔کفار کی طرف سے تلوار کے اٹھائے جانے کے ساتھ۔پس شرط کے عدم تحقق کے باعث مشروط (جہاد بالسیف) بھی کبھی متحقق نہیں ہوسکتا۔چنانچہ اس عبارت کے شروع میں یہ الفاظ ہیں۔رُفِعَتْ هَذِهِ السُّنَّةُ بِرَفْعِ أَسْبَابِهَا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ۔“ (حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴ ۴۵ ) یعنی تلوار کے جہاد کی شرائط کے پائے نہ جانے کے باعث موجودہ ایام میں تلوار کا جہاد نہیں ہو رہا۔حضور تحفہ گولڑویہ میں تحریر فرماتے ہیں۔اِنَّ وَجُوهَ الْجِهَادِ مَعْدُومَةٌ فِي هَذَا الزَّمَنِ وَهَذِهِ الْبَلادِ۔“ ( تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلدے اصفحہ ۸۲ ) یعنی ” جہاد اس لئے نہیں ہوسکتا کیونکہ اس وقت اور اس ملک میں جہاد کی شرائط پائی نہیں جاتیں۔پھر تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلدے اصفحہ ۷۸ میں جہار ممانعت جہاد کا فتوی دیا ہے۔وہاں تحریر فرمایا ہے۔اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال فرما چکا ہے سید کونین مصطفے عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا ان اشعار میں ”اب“ اور ”التواء کے الفاظ صاف طور پر اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ جہاد کا حکم قیامت تک کے لئے منسوخ نہیں بلکہ بوقت موجودہ عدم تحقق شرائط کے باعث ”جہاد“ عملاً ملتوی ہے اور وہ بھی حضرت صاحب کی اپنی ذاتی رائے یا فتویٰ سے نہیں بلکہ خود حضرت شارع علیہ السلام کی حدیث صحیح مندرجہ بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسی علیہ السلام کی سند کی بنا پر۔