مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 719
719 زور دار الفاظ میں تعریف کی وجہ :۔اس جگہ ایک سوال ہو سکتا ہے کہ گو یہ درست ہے کہ جو کچھ حضرت مرزا صاحب نے انگریزی حکومت کے حق میں لکھا وہ خلاف واقعہ نہ تھا لیکن پھر بھی حضرت مرزا صاحب کو اس قدر زور سے بار بار انگریز کی تعریف کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟ آپ خاموش بھی رہ سکتے تھے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وسوسہ صرف ان ہی لوگوں کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے جن کو اس پس منظر کا علم نہیں جس میں وہ تحریرات لکھی گئیں۔پس منظر :۔اس ضمن میں سب سے پہلے یہ یا درکھنا چاہیے کہ ۱۸۵۷ء کے سانحہ کے حالات اور تفصیلات کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے وہ زمانہ کس قدر را بتلاء اور مصائب کا زمانہ تھا۔وہ تحریک ہندوؤں کی اٹھائی ہوئی تھی، لیکن اس کو جنگِ آزادی کا نام دیا گیا اور یہ اثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس میں ہندوستانی مسلمان بھی من حیث القوم پس پردہ شامل ہیں۔سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد انگریزوں نے زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لی تھی۔اس لئے نئی حکومت کے دل میں متقدم حکومت کے ہم قوم لوگوں کے بارے میں شکوک وشبہات کا پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا اس پر ۱۸۵۷ء کا حادثہ مستزاد تھا۔دوسری طرف ہندو قوم تھی جو تعلیم و تربیت، صنعت و حرفت، سیاست و اقتصادی غرضیکه ہر شعبہ زندگی میں مسلمانوں پر فوقیت رکھتے تھے۔مسلمانوں کا انہوں نے معاشرتی بائیکاٹ کر رکھا تھا۔وہ مسلمانوں کے سیاسی زوال سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے منصوبے سوچ رہے تھے۔یہ دور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے نازک تریں دور تھا۔پنجاب میں انگریزی تسلط سے پہلے سکھ دور کے جبر و استبداد اور وحشیانہ مظالم کی داستان حد درجہ المناک ہے۔مسلمانوں کو اس زمانہ میں انتہائی صبر آزما حالات سے گزرنا پڑا۔انہیں جبر ہند و یا سکھ بنایا گیا۔اذانیں حکما ممنوع قرار دی گئیں۔مسلمان عورتوں کی عصمت دری مسلمانوں کا قتل اور ان کے ساز وسامان کی لوٹ مار سکھوں کا روز مرہ کا مشغلہ تھا۔سکھوں کے انہی بے پناہ مظالم کے باعث مجد دصدی سیز دہم ( تیرھویں ) حضرت سید احمد بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کو ان کے خلاف علم جہاد بلند کرنا پڑا تھا۔پس ایک طرف ہندو قوم کی ریشہ دوانیاں، مسلمانوں کا اقتصادی بائیکاٹ ،مسلمانوں پر ان کا علمی سیاسی اور اقتصادی تفوّق اور ان کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے منصوبے اور اس کے ساتھ