مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 718 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 718

718 ۳۔بے شک میں جیسا کہ میرے خدا نے میرے پر ظاہر کیا صرف اسلام کو دنیا میں سچا مذ ہب سمجھتا ہوں لیکن اسلام کی کچی پابندی اسی میں دیکھتا ہوں کہ ایسی گورنمنٹ جو در حقیقت محسن اور مسلمانوں کے خون اور آبرو کی محافظ ہے اس کی سچی اطاعت کی جائے۔میں گورنمنٹ سے ان باتوں کے ذریعہ سے کوئی انعام نہیں چاہتا۔میں اس سے درخواست نہیں کرتا کہ اس خیر خواہی کی پاداش میں میرا کوئی لڑکا کسی معزز عہدہ پر ہو جائے۔“ (اشتہار ۱۲۱ کتوبر ۱۸۹۹ تبلیغ رسالت جلد۴ صفحه ۴۶ ) ۴۔”میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں۔کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا۔“ تبلیغ رسالت جلدے صفحہ ۱۰) ۵۔میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا جیسا کہ نادان لوگ خیال کرتے ہیں نہ اس سے کوئی صلہ چاہتا ہوں۔بلکہ میں انصاف اور ایمان کے رو سے اپنا فرض دیکھتا ہوں کہ اس گورنمنٹ کی شکر گزاری کروں۔“ ( تبلیغ رسالت جلده صفحه ۱۲۳) آپ یا آپ کی اولاد نے حکومت سے کوئی نفع حاصل نہیں کیا ان تحریرات سے واضح ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے انگریز کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا وہ کسی لالچ یا طمع یا خوف کے زیر اثر نہیں تھا اور یہ محض دعوئی ہی نہیں بلکہ اس کو واقعات کی تائید بھی حاصل ہے کیونکہ یہ امر واقعہ ہے اور کوئی بڑے سے بڑا دشمن بھی یہ نہیں کہ سکتا حضرت مرزا صاحب یا حضور کے خلفاء میں سے کسی نے گورنمنٹ سے کوئی مربع یا جاگیر حاصل کی یا کوئی خطاب حاصل کیا بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے خلاف عیسائی پادریوں نے اور بعض اوقات حکومت کے بعض کارندوں نے بھی آپ اور آپ کی جماعت کو نقصان پہنچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔پس جب یہ ثابت ہے کہ حضور نے کوئی مادی فائدہ گورنمنٹ انگریزی سے حاصل نہیں کیا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آپ نے انگریزی حکومت کی غیر جانبداری اور امن پسندی اور مذہب میں عدم مداخلت کی پالیسی کے حق میں جو کچھ لکھا وہ مینی بر حقیقت تھا۔تو پھر آپ پر ”خوشامد کا الزام لگا نا محض تعصب اور تحکم نہیں تو اور کیا ہے؟