مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 717
717 ج سید صاحب ( حضرت سید احمد بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کا سرکار انگریزی سے جہاد کرنے کا ہر گز ارادہ نہیں تھا۔وہ اس آزاد عملداری کو اپنی عملداری سمجھتے تھے۔“ (ایضا صفحہ ۱۳۹) و۔حضرت مولانا سید اسمعیل صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ انگریزی حکومت کے متعلق فرماتے ہیں:۔ایسی بے رور یا اور غیر متعصب سر کار پر کسی طرح بھی جہاد کرنا درست نہیں۔“ ( سوانح احمدی مصنفہ مولوی محمد جعفر تھانیسری صفحہ ۵۷ مطبع سٹیم پرس لاہور ) غرضیکہ ان ہر دو قابل فخر مجاہد ہستیوں نے بھی انگریزی حکومت کی بعینہ وہی تعریف کی جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے کی بلکہ حضرت سید احمد بریلوی تو حکومت انگریزی کو اپنی ہی عملداری سمجھتے تھے۔کیا احراری شعبدہ باز جوش خطابت میں ان بزرگان اسلام پر بھی انگریزی حکومت کی خوشامد کا الزام لگائیں گے؟ پس یہ حقیقت ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے انگریزی قوم کے حق میں جو کچھ لکھا وہ بطور خوشامد نہیں بلکہ مبنی بر صداقت تھا۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔ا۔بعض نادان مجھ پر اعتراض کرتے ہیں جیسا کہ صاحب المنار نے بھی کیا کہ یہ شخص انگریزوں کے ملک میں رہتا ہے اس لئے جہاد کی ممانعت کرتا ہے یہ نا دان نہیں جانتے کہ اگر میں جھوٹ سے اس گورنمنٹ کو خوش کرنا چاہتا تو میں بار بار کیوں کہتا کہ عیسی بن مریم صلیب سے نجات پا کر اپنی موت طبعی سے بمقام سری نگر کشمیر مر گیا اور نہ وہ خدا تھا اور نہ خدا کا بیٹا۔کیا انگریز مذہبی جوش والے میرے اس فقرہ سے مجھ سے بیزار نہیں ہوں گے؟ پس سنو ! اے نادانوں میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسی گورنمنٹ سے جو دین اسلام اور دینی رسوم پر کچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کے لئے ہم پر تلواریں چلاتی ہے قرآن شریف کے رو سے جنگ مذہبی کرنا حرام ہے۔“ کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۷۵ حاشیہ ) ۲۔یہ گورنمنٹ مسلمانوں کے خونوں اور مالوں کی حمایت کرتی ہے اور ہریک ظالم کے حملہ سے ان کو بچاتی ہے۔میں نے یہ کام گورنمنٹ سے ڈر کر نہیں کیا اور نہ اس کے کسی انعام کا امید وار ہو کر کیا ہے بلکہ یہ کام محض اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کیا ہے۔“ نور الحق حصہ اول - روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۴۰ ۴۱)