مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 715
715 وَطأتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمُ سِنِينَ كَسِنِى يُوسُفَ وَاهْلُ الْمَشْرِقِ يَوْمَئِذٍ مِنْ مُضَرَ مُخَالِفُوْنَ لَهُ۔“ حدیث ہذا کا اردو ترجمہ تجرید البخاری مترجم اردو سے نقل کیا جاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کہتے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ۔۔۔چنانچہ آپ فرماتے اے اللہ اپنی گرفت قبیلہ مضر پر سخت کر دے۔اور ان پر قحط سالیاں ڈال دے جیسے یوسف کے عہد کی قحط سالیاں تھیں۔اس زمانہ میں قبیلہ مضر کے مشرقی لوگ آپ کے مخالف تھے۔“ تجرید البخاری مترجم جلد ا صفحه ۴ ۱۸ شائع کردہ مولوی فیروز الدین اینڈ سنز لاہور ) (۴) بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی تسلیم کے بعض آدمیوں کو قبیلہ بنی عامر کی طرف بغرض سفارت و تبلیغ بھیجا۔مگر انہوں نے دھوکہ سے قتل کر دیا صرف ایک لنگڑے صحابی بچ گئے اس واقعہ کی خبر جب آنحضرت کو ملی تو آپ چالیس دن تک قبیلہ بنی عامر کے لئے بد دعا فرماتے رہے۔فَدَعَا عَلَيْهِمُ اَرْبَعِينَ صَبَاحًا عَلَى رَعْلٍ وَذَكْوَانَ وَ بَنِي لَحْيَانَ وَ بَنِي عُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ۔» ( بخاری باب الحُوَرُ الْعِيْن وَ صِفَتهُن و تجرید البخاری مطبوعہ فیروز الدین اینڈ سنز لاہور حصہ دوم صفحه ۴۵ و صفحه ۴۶) ترجمہ۔پھر آپ نے چالیس دن تک قبیلہ رعل اور ذکوان اور بنی لحیان بنی عصیہ (کے لوگوں ) پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی بددعا کی۔(۵) بخاری شریف کتاب الاذان باب فصل اللهم ربنا لک الحمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بَعْدَ مَا يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَيَدْعُوا لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز نماز میں بعد از رکوع سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد بالالتزام مسلمانوں کے حق میں دعا فرماتے تھے اور کافروں پر لعنت بھیجا کرتے تھے۔۴۳۔انگریز کی خوشامد کا الزام مجلس احرار کی طرف سے بار بار الزام لگایا جاتا ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام نے انگریز کی خوشامد کی اور اس غرض سے تریاق القلوب۔کتاب البریہ۔نورالحق اور تبلیغ رسالت کے حوالجات پیش کئے جاتے ہیں۔ذیل کی سطور میں ان کے اس الزام کا کسی قدر تفصیل سے جواب عرض کیا