مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 709 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 709

709 لوگ اولا د بغایا ہیں اور ہم سے نفرت کرنے والے شیطان کا نطفہ ہیں۔پھر بتاؤ اگر ان الفاظ کا لفظی ترجمہ کیا جائے۔تو ان فقرات کے کوئی معنے بنتے ہیں؟ اور اس طرح روئے زمین کا کوئی انسان ولد الزنا ہونے سے بچ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ا۔چنانچہ احراریوں کا سرکاری آرگن اخبار مجاہد، لاہور ۴ مارچ ۱۹۳۶ء مندرجہ بالاحوالجات از فروغ کافی“ کے جواب میں رقمطراز ہے:۔ولد البغایا۔ابن الحرام اور ولد الحرام۔ابن الحلال۔بنت الحلال وغیرہ یہ سب عرب کا اور ساری دنیا کا محاورہ ہے جو شخص نیکو کاری کو ترک کر کے بدکاری کی طرف جاتا ہے اس کو باوجود یکہ اس کا حسب و نسب درست ہو۔صرف اعمال کی وجہ سے ابن الحرام۔ولد الحرام کہتے ہیں۔اس کے خلاف جو نیکو کار ہوتے ہیں۔ان کو ابن الحلال کہتے ہیں۔اندریں حالات امام علیہ السلام کا اپنے مخالفین کو اولاد بغایا“ کہنا بجا اور درست ہے۔‘ ( اخبار مجاہد لا ہور۴ مارچ ۱۹۳۶ء) پس آئینہ کمالات اسلام وغیرہ کی عبارات میں بھی مراد ہدایت سے دور یا سرکش یا بد فطرت انسان ہی ہیں نہ کہ ولد الزنا یا حرامزادے! ۱۔حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کی نسبت لکھا ہے۔”ایک دفعہ لڑکے گیند کھیل رہے تھے کہ اتفاقاً گیندا اچھل کر مجلس میں آپڑا۔کسی کو جا کر لانے کی جرات نہ ہوئی۔آخر ایک لڑکا گستاخانہ اندر آیا اور گیند اٹھا کر لے گیا۔آپ (حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ) نے دیکھ کر فرمایا کہ شاید یہ لڑ کا حلال زادہ نہیں ہے۔چنانچہ دریافت پر ایسا ہی معلوم ہوا۔لوگوں نے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہو گیا ؟ فرمایا! اگر یہ حلال زادہ ہوتا تو اس میں شرم و حیا ہوتی۔“ تذکرہ اولیاء باب اٹھارھواں۔مترجم اردو شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز بار سوم صفحه ۱۳۴۷) ثابت ہوا کہ جس میں شرم وحیا نہ ہو وہ ”حلال زادہ نہیں ہوتا۔۳۸۔جنگل کےسور إِنَّ الْعَدَا صَارُوا خَنَازِيرَ الْفَلَا وَنِسَاءُ هُمُ مِنْ دُونِهِنَّ الْأَكْلَبُ نجم الہدی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۵۳ ) جواب : یہ عام خطاب نہیں بلکہ صرف ان دشمنوں کو ہے جو گندی گالیاں دیتے تھے۔خواہ وہ