مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 679
679 وقت میں ان باتوں کی خبر دی گئی تھی جبکہ انسانی عقل اس کثرت مد دکوڈ ور از قیاس و محال بجھتی تھی۔ایسا ہی یہ دوسری پیشگوئی یعنی يَأْتُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيق۔۔۔اس زمانہ میں یہ پیشگوئی بھی پوری ہو گئی چنا نچہ اب تک کئی لاکھ انسان قادیان میں آچکے ہیں اور اگر خطوط بھی اس کے ساتھ شامل کئے جائیں تو شاید یہ اندازہ کروڑ تک پہنچ جائے گا مگر ہم صرف مالی مدد اور بیعت کنندوں کی آمد پر کفایت کر کے ان نشانوں کو تخمینا دس لاکھ نشان قرار دیتے ہیں۔بے حیا انسان کی زبان کو قابو میں لانا تو کسی نبی کے لئے ممکن نہیں ہوا۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۷۵) پس نشانات کی تعداد کے متعلق حضور علیہ السلام کی تحریرات میں مختلف طریق سے اندازہ لگایا گیا ہے مبالغہ نہیں ہے۔اسی طرح کشتی نوح کی محولہ عبارت کہ دیکھوزمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑہا انسان مر جاتے ہیں۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۱) یہ محاورہ زبان ہے جو کثرت کے اظہار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔گنتی کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔تمہارے جیسا عقلمند تو قرآن مجید کی آیت مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلى “پڑھ کر ان اندھوں کے لئے سرمہ تریاق چشم تجویز کرنے بیٹھ جائے گا۔یا کفار کے لیے ثمر الْبَرِيَّةِ “ (البينة: ۷ ) کا لفظ دیکھ کر ان کے فی الواقعہ جانور ہونے کا تصور کر لے گا ؟ یہ تو تھا حقیقی جواب۔لیکن ذرا یہ تو بتاؤ کہ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ“ (بخارى كتاب الرقاق باب الصحة والفراغ) کے کیا معنے ہیں؟ کیا تم اور تمہارے سب لواحقین مردہ ہو؟ کیا دنیا کے جملہ انسانوں میں سے ایک بھی زندہ نہیں ہے؟ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ یہ زندگی ہی نہیں ہے۔پھر ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَائِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ (مسند احمد بن حنبل مسند انس بن مالک جلد ۴ صفحه ۲۹ حدیث نمبر ۱۲۴۸۹ مطبع دار الاحیاء التراث بیروت لبنان ) کہ امام اور امیر کے لئے قریشی النسل ہونا ضروری ہے۔پھر فرمایا:۔لا يَزَالُ هَذَا الْآمُرُ فِى هَذِ الْحَيِّ مِنْ قُرَيش۔(بخاری کتاب الاحکام باب