مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 673
673 مگر جو جھوٹے نبی بعل بت کے پجاری تھے ان کا ذکر باب ۲۲ میں نہیں بلکہ میں ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حوالہ باب ۲۲ کا دیا ہے۔نہ کہ باب ۱۶ کا۔۲۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ہے:۔بائیل میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چار سو نبی کو شیطانی الہام ہوا تھا۔اور ایک پیغمبر جس کو حضرت جبرائیل سے الہام ملا تھا۔سو یہ خبر سچی نکلی مگر اس چار سونبی کی پیشگوئی جھوٹی ظاہر ہوئی۔“ ( ضرورة الامام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۸۸) اور یہ سب کچھ ا۔سلاطین باب ۲۲ آیت ۵ تا ۲۸ میں لکھا ہوا موجود ہے اور یہوسفط نے شاہ اسرائیل سے کہا۔آج کے دن خداوند (نہ کہ بعل۔خادم ) کی مرضی الہام سے دریافت کیجئے۔تب شاہ اسرائیل نے اس روز نبیوں کو جو چار سو کے قریب تھے اکھٹا کیا۔اور ان سے پوچھا۔پھر یہوسفط بولا۔ان کے سوا خداوند کا کوئی نبی ہے؟ (اس کے بعد لکھا ہے کہ میکا یاہ نبی کو بلایا گیا۔خادم ) اس نے (میکایاہ نے) جواب میں کہا دیکھ خداوند تیرے نے ان سب نبیوں کے منہ میں جھوٹی روح ڈالی ہے اور خداوند ہی نے تیری بابت ( مجھ کو ) خبر دی ہے۔“ (ا۔سلاطین باب ۲۲) غرض باب ۲۲ والے نبی بعل والے نبی نہیں ہیں۔بعل والے نبیوں کا ذکر باب ۱۶ میں الگ طور پر درج ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا ذکر نہیں فرمایا اور ان کی تعداد چار سو نہیں بلکہ چار سو پچاس تھی۔(۱۔سلاطین ۱۸٫۲۲) پس حضرت اقدس علیہ السلام نے ان کا ذکر نہیں فرمایا۔۳۔جہاں تک حوالہ کا تعلق تھاوہ گذر چکا لیکن ہمیں حیرت ہے کہ تو رات کے ان نبیوں پر شیطانی الہام کے ذکر سے تم اتنا کیوں چمکتے ہو جبکہ تم ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے سردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی مانتے ہو کہ ایک دفعہ آپ کو بھی شیطانی الہام ہو گیا تھا ( نعوذ باللہ ) دیکھو جلالین مجتبائی صفحہ ۲۸ وزرقانی شرح مواہب الدنیہ جلد اصفحه ۳۴۰ مفصل بحث کے لیے دیکھو پاکٹ بک ہذا مضمون حضرات انبیاء علیہم السلام پر غیر احمدی علماء کے بہتانات‘ آخری حصہ) ۲۳۔وعدہ خلافی مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کا اشتہار دیا۔لوگوں سے روپے لیے کہ تین سو دلائل (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ) لکھوں گا مگر سب روپے کھا گئے اور دلائل شائع نہ کئے جس سے قومی نقصان ہوا اور وعدہ خلافی بھی۔