مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 672
672 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اور نہ پوچھا اس سے۔“ (رسالہ اظہار حق در باب ”جو از طعام اہل کتاب شائع کردہ خان احمد شاہ صاحب قائمقام اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر ہوشیار پور مطبوعہ مطبع اتالیق ہند لا ہور صفحہ ۱۶ا جس پر مولوی سید نذیر حسین دہلوی۔مولوی محمد حسین بٹالوی۔مولوی عبد الحکیم کلانوری ،مولوی غلام علی قصوری اور دیگر علماء ہند کے دستخط ومواہیر ثبت ہیں مطبوعہ ۱۸۷۵ء) ۵۔حضرت ام منہیس بنت محض اپنا ایک شیر خوار بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائیں۔بچہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا۔لکھا ہے کہ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَيْهِ وَ لَمْ يَغْسِلُهُ - (منفی مؤلفه ابن تیمیه صفحه۲۳) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور اپنے کپڑے پر اس کا چھینٹا دیا مگر کپڑے کو نہ دھویا۔۶۔شکل یا عرینہ کے چند مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے مدینہ میں بباعث نا موافقت آب و ہوا وہ بیمار ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اونٹوں کا پیشاب اور اونٹنیوں کا دودھ پینے کا حکم دیا۔“ (مشتلقی مؤلفہ ابن تیمیہ صفحہ ۲۵) غرضیکہ حضرت اقدس علیہ السلام نے جو اس ضمن میں تحریر فرمایا ہے۔اس میں کسی شک وشبہ کی یا اعتراض کی گنجائش نہیں۔۲۲۔تورات کے چارسونبی اعتراض :۔حضرت مرزا صاحب نے ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۶۲۹ طبع اوّل میں لکھا ہے کہ تو رات میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چارسونبیوں کو شیطانی الہام ہوا تھا۔ا۔سلاطین باب ۲۲ آیت ۶ تا ۱۹۔تو رات میں ہرگز یہ نہیں لکھا۔بلکہ وہاں تو یہ لکھا ہے کہ وہ بعل بت کے پجاری تھے۔(۱۔سلاطین باب ۱۶ آیت ۲،۳۱۔سلاطین باب ۱۰ آیت ۱۹) الجواب: - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن چارسونبیوں کا ذکر فرمایا ہے وہ جھوٹے نبی نہیں تھے۔اور نہ وہ بعل بت کے پجاری تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے خود تورات کا حوالہ دیا ہے۔مجموعه توریت میں سے سلاطین اول باب ۲۲ آیت ۱۹ میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چار سونبی نے اس کی فتح کے بارہ میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کوشکست آئی۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۹ )