مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 664
664 خواص علم آن عطامی فرماند (مکتوبات امام ربانی جلد صفحه ۲۴۶ مطبع نولکشور مکتوب نمبر۳۱۰) یعنی قرآن مجید کے متشابہات بھی ظاہری معنی سے پھر کر محمول برتاویل ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ ان کی تاویل سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا۔پس معلوم ہوا کہ متشابہات خدائے بزرگ و برتر کے نزدیک بھی محمود بر تاویل ہیں اور ان کے ظاہری معنے مراد نہیں اور خدائے تعالیٰ علمائے راسخین کو بھی اس علم کی تاویل سے حصہ عطا فرماتا ہے۔چنانچہ اس سے بڑھ کر علم غیب جو خدا تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اس کی اطلاع صرف رسولوں کو ہی عطا فرماتا ہے۔اس تاویل کو ویسی نہ سمجھنا چاہیے جیسی کہ ہاتھ سے مراد قدرت اور وجہ سے مراد ذات الہی ہے۔حاشا و کلا ایسا نہیں بلکہ اس تاویل کا علم تو وہ اپنے خاص الخاص بندوں کو ہی عطا فرماتا ہے۔اس عبارت میں حضرت امام ربانی مجددالف ثانی نے بتصریح تحریر فرمایا ہے کہ اسرار قرآنی کو اللہ تعالیٰ اپنے الہام سے خواص امت پر کھولتا ہے مگر جن کو اپنے مخصوص علم غیب سے اطلاع دیتا ہے وہ ”رسول“ ہوتے ہیں۔پس تمہارا اعتراض بے محل ہے۔۱۴۔تفسیر ثنائی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت نے حمامة البشرکی صفحہ ۴۷ طبع اول میں تفسیر ثنائی ( از مولانا ثناء اللہ پانی پتی) کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کی درایت کمزور تھی۔حالانکہ تفسیر ثنائی مصنفہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری میں یہ کہیں نہیں ملتا۔الجواب: - تجاہل عارفانہ سے کام نہ لو تفسیر ثنائی سے مراد مولوی ثناء اللہ امرتسری کی نام نہاد تفسیر نہیں۔بلکہ جناب مولانا ثناء اللہ صاحب پانی پتی کی مشہور و معروف تفسیر ہے۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوسری جگہ معترض کی محولہ کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۲۳ طبع اول) سے کئی سال پہلے تصریح فرما چکے ہیں۔قَالَ صَاحِبُ التَّفْسِيرِ الْمَظْهَرِي اَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ صَحَابِيٌّ جَلِيلُ الْقَدْرِ، وَلَكِنَّهُ أَخْطَأَ فِي هَذَا التَّأْوِيلِ۔(حمامة البشر گی۔روحانی خزائن جلد ے صفحہ ۲۴۰) که مصنف تفسیر مظہری نے لکھا ہے کہ گو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں لیکن انہوں نے اِنُ مِنْ اَهْلِ الْكِتَابِ والی آیت میں اپنی طرف سے تاویل کرنے میں غلطی