مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 630 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 630

630 آنحضرت صلعم کی وفات تک ۴۷۳۹ برس تحریر فرمائے ہیں تو یہ قرآنی حساب یعنی سورۃ والعصر کے حروف ابجد کی بناء پر ہے۔ورنہ عام مروجہ اور مشہور تاریخیں جو عیسائیوں کے حساب کے مطابق ہیں۔ان کی رو سے آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلعم کی وفات تک ۴۶۳۶ برس بنتے ہیں۔تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۲۵۲ ” عیسائیوں کے حساب سے جس پر تمام مدار بائیل کا رکھا گیا ہے ۴۶۳۶ برس ہیں۔یعنی حضرت آدم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اخیر زمانہ تک ۴۶۳۶ برس اس حساب سے ۱۹۰۶ء (۱۳۲۴ھ ) میں ۹۶۰ برس بنتے ہیں۔یعنی ابھی چھٹا ہزار ہی جاری ثابت ہوتا ہے۔پس چشمہ مسیحی میں حضرت اقدس نے عیسائیوں کا یہی مروجہ حساب مراد لیا ہے۔سورۃ العصر کے حروف ابجد والا حساب مراد نہیں۔( نیز دیکھو حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۰۱ ایڈیشن اوّل) اسی طرح حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: چونکہ عرب کی عادت میں یہ داخل ہے کہ وہ کسور کو حساب سے ساقط رکھتے ہیں اور مخل مطلب نہیں سمجھتے اس لئے ممکن ہے کہ سات ہزار سے اس قدر زیادہ بھی ہو جائے جو آٹھ ہزار تک نہ پہنچے۔مثلاً دو تین سو برس اور زیادہ ہو جائیں۔“ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحه ۲۵۱ بقیہ حاشیہ ) چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اہل عرب کے جس قاعدہ کا ذکر کیا ہے اس کا ثبوت یہ ہے:۔وَ جَاءَ فِي رِوَايَةٍ إِنَّهُ يَمْكُتُ خَمْسًا وَ اَرْبَعِينَ۔فَلَا يُنَا فِيْهِ حَدِيثُ أَرْبَعِينَ لَانَّ النَّيْفَ كَثِيرًا مَا يُحْذَقُ عَنِ الْعَشْرَاتِ۔( نبراس شرح الشرح لعقائد نسفی از علامہ محمد عبد العزیز الفرها روی صفحه ۵۸۷) کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ مسیح موعود دنیا میں ۴۵ سال رہے گا (مشکوۃ المصابیح کتاب الفتن باب نزول عيسى فصل نمبر۔۔۔پس یہ روایت اس حدیث کے مخالف نہیں ہے جس میں آتا ہے کہ وہ چالیس سال تک رہے گا۔(در منثور زير آيتان من اهل الكتاب۔النساء : ٢٠) کیونکہ عام طور پر کسر دہا کوں سے حذف کر دی جاتی ہے۔پس اس لحاظ سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔۵۔منظور محمد صاحب کے ہاں بیٹا اعتراض: حضرت مرزا صاحب نے فرمایا تھا کہ میاں منظور صاحب کے گھر بیٹا ہوگا جس کا