مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 627 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 627

627 یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ملہم کو شبہ ہے بلکہ اس کے برعکس یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملہم کو حضرت کی وفات سے ۳۰ سال قبل ہی آپ کی وفات کے قریب کے حالات کا علم تھا کہ دشمن کس طرح آپ کے الہامات سے پیشگوئیاں اڑا کر حضور علیہ السلام کی وفات کو اپنی پیشگوئی کا نتیجہ قرار دے کر حق کو مشتبہ کرنے کی ناپاک کوشش کریں گے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نَزیدُ عُمُرَکَ۔(بدرجلد۲ نمبر۴۳ مورخه ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ صفحه ۳) کے الہام کے لئے بھی گنجائش رکھ لی۔۔یا۔یا‘ کا لفظ کئی دفعہ خدا تعالیٰ کے کلام میں بھی آجایا کرتا ہے۔اور اس میں کوئی حکمت ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔اِمانُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نتَوَفَّيَنَّكَ (يونس: ۴۷ ) کہ اے نبی ! یا تو ہم آپ کو آپ کی بعض پیشگوئیاں پوری ہوتی دکھا دیں گے یا آپ کو وفات دے دیں گے۔۳۔قرآن مجید میں ہے: "وَاخَرُونَ مُرْجَونَ لِأَمْرِ اللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيم " (التوبة: ١٠٦) کہ کچھ اور بھی ہیں ( یعنی وہ تین صحابہ کعب بن مالک۔ہلال بن امیہ اور مرارۃ بن الربیع ) جو جنگ تبوک میں جانے سے پیچھے رہ گئے تھے۔خدا تعالیٰ کے حکم کی انتظار میں۔جن کا معاملہ تاخیر میں ڈالا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دے گا یا معاف فرما دے گا۔اللہ تعالیٰ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔اس آیت میں بھی دیا۔یا “ آیا ہے۔اس کے متعلق تفسیر حسینی میں لکھا ہے :۔” یا عذاب کرے گا اللہ ان پر اگر وہ اس گناہ پر اڑے رہیں گے۔۔۔اور یا تو بہ دے گا انہیں اگر نادم ہوں گے اس کام سے۔یہ تر دید یعنی یہ یا یہ کہنا بندوں کے واسطے ہے۔ورنہ اللہ کے نزدیک تردید نہیں۔“ تفسیر قادری زیر آیت وَ اخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِامْرِ اللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ (التوبة:۱۰۶) تفسیر حسینی فارسی زیر آیت وَ اخَرُونَ مُرْجَوْنَ لأمر الله۔۔۔۔التوبة : ١٠٦) یعنی اللہ تعالیٰ کو تیجہ کا علم تھا۔مگر اللہ تعالیٰ چونکہ لوگوں کوتر ڈر میں رکھنا چاہتا تھا اس لئے یا کا لفظ استعمال کیا گیا۔یہی حال یہاں ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ عبدالحکیم اور الہی بخش وغیرہ دشمنوں سے حضرت مسیح موعود کے وقت وفات کو مصلی مخفی رکھنا چاہتا تھا تا کہ وہ کوئی جھوٹی پیشگوئی بنا کر حق کو مشتبہ نہ کرسکیں۔اس لئے او“ کا لفظ رکھا گیا۔پس محض لفظ یا “ کی بناپر اللہ تعالی پر اعتراض کرنا نادانی ہے۔