مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 626
626 تھی اس کے مطابق حضور کی عمر پوری ہو گئی۔اب تم اس الہام کو مانو یا نہ مانو، بہر حال اتنا تو تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک تو آپ کی وفات عین پیشگوئی کے مطابق ۷۴ اور ۷۶ سال کے اندراندر ہوئی۔ب۔پھر حضور فرماتے ہیں: رویا:۔” ایک کوری ٹنڈ میں کچھ پانی مجھے دیا گیا ہے۔پانی صرف دو تین گھونٹ باقی اس میں رہ گیا ہے لیکن بہت مصفی اور مقطر پانی ہے اس کے ساتھ الہام تھا۔آب زندگی۔“ ریویو آف ریلیجنز اردو جلد نمبر ۱ ص ۴۸۰ ماه دسمبر ۱۹۰۵ء و تذکره صفحه ۵۷۳ ایڈیشن سوم مطبوعه ۱۹۶۹ء الشركة الاسلامیہ ربوہ ) اس میں دو تین گھونٹ‘ زندگی کا پانی باقی رہنا بتایا گیا ہے سو اس کے مطابق پورے اڑھائی سال بعد حضرت اقدس فوت ہوئے۔غرضیکہ جس ملہم نے یہ بتایا کہ آپ کی عمر ۷۴-۷۶ کے درمیان ہوگی اسی ملہم نے وفات کے قریب بتادیا کہ وہ میعا داب قریب الاختتام ہے اور اب اس میں دو تین سال رہ گئے ہیں۔سو اس کے مطابق عین پ دے سال کی عمر میں حضور کی وفات ہوئی۔ایک شبہ کا ازالہ بعض مخالفین یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ الہام جو یا۔یا“ کا لفظ آتا ہے کہ ” اسی سال یا اس سے چار پانچ سال کم یا چار پانچ سال زیادہ۔یہ تکلم کے دل میں شک اور شبہ پر دلالت کرتا ہے۔کیا اللہ تعالی کو صحیح علم نہ تھا ؟ الجواب :۔اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کوتو صحیح صحیح معلوم تھا، لیکن عمر کی تعین کر کے اس کو معین طور پر ظاہر کرنا مناسب نہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ عبدالحکیم مرتد اور ثناء اللہ جیسے دشمنوں کے ساتھ حضرت اقدس کا مقابلہ ہوگا اور حضور کی وفات کے متعلق من گھڑت پیشگوئیاں شائع کر دیں گے۔اور اس طرح سے حق مشتبہ ہو جائے گا۔چنانچہ عبد الحکیم مرتد نے اسی دو تین گھونٹ پانی والے رویا کے شائع ہونے پر جھٹ تین سال کی میعاد لگا کر پیشگوئی کر دی۔سو اللہ تعالیٰ کی حکمت نے بجائے کوئی سال وفات کے لئے معین کرنے کے آپ کی عمر کی پہلی اور آخری حد بتادی تا کہ مخالفین کو جھوٹا کرنے کی گنجائش رہے۔اسی طرح مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحه ۵۷۹ از الشرکة الاسلامیۃ ) بھی حضور نے تحریر فرمایا۔اب مولوی ثناء اللہ صاحب اگر مباہلہ پر آمادہ ہوتے تو یقینا اللہ تعالی حضرت اقدس کو اور عمر دیتا اور مولوی ثناء اللہ کو حضور کی زندگی ہی میں موت دیتا۔پس’یا۔یا‘“ کے الفاظ