مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 25
25 25 کہ قرآن کا یہ دعوی کس قدر وزنی تھا اور ۱۳۰۰ سال تک کوئی اس مطالبہ کا جواب نہ دے سکا۔پنڈت کالی چرن اور دھرم بھکشو نے چند غلط فقرات لکھ کر اندھوں میں کانا راجہ بنا چاہا مگر ایسی منہ کی کھائی کہ بولنے کا نام تک نہ لیا مگر اس کے بالمقابل برہمنوں نے اتھر وید کو اپنے پاس سے بنا کر رگ وید ،سام وید اور بیجر وید کے ساتھ ایسا ملا دیا کہ آریہ صاحبان اتھر وید کو بھی باقی تینوں ویدوں کی طرح الہامی ماننے لگ گئے۔حالانکہ باقی ویدوں میں اتھر دید کا کہیں ذکر نہیں بلکہ وہاں صاف طور پر تین ہی ویدوں کا ہونا لکھا ہے۔ملاحظہ ہو: ایک ایک وید کو باراد بارہ سال مل کر چھتیس سال میں ختم کریں۔‘ ستیارتھ پرکاش ب۳ دفعہ ۲۶) فرمائیے جناب اوید تین ہیں یا چار بارہ سال میں ایک پڑھنے سے ۳۶ سال میں کتنے وید ختم ہوئے تین یا چار؟ اور سینے : جس سبھا میں رگ وید ، یجروید ، سام وید کے جاننے والے تین سبھا سدھ ہو کر آئین باندھیں۔( منوسمرتی ادھیائے ۱۲ ۱۱۲ بحوالہ ستیارتھ پر کاش ب ۶ دفعہ ۲) پھر یجر ویدا دھیائے ۳۶ کے پہلے منتر میں رگ وید سام دید اور یجر وید کا نام ہے مگر اتھ وید کا کہیں ذکر نہیں۔پس معلوم ہوا کہ اتھر وید بعد میں برہمنوں نے باقی تینوں ویدوں میں ملا دیا ہے۔پس وید بے مثل نہ رہے۔(۴) کامل الہامی کتاب وہی ہو سکتی ہے جو عین فطرت انسانی کے مطابق تعلیم دے۔قرآن کہتا ہے : فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم: ۳۱) کہ اسلام عین فطرت انسانی کے مطابق تعلیم دیتا ہے مگر اس کے بالمقابل ویدک دھرم کی تعلیم فطرت انسانی کے سخت خلاف ہے۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں : (الف) بچوں سے لاڈ نہیں کرنا چاہیے بلکہ تنبیہ ہی کرتے رہیں (ستیارتھ ب ۲ دفعہ ۲۰) (ب) پیدائش ہی سے گایتری منتر پڑھنا اچھا ہے۔“ (ستیار تھوب ۳ دفعہ ۱۴) ( ج ) بالکل شادی نہ کرنا اچھا ہے۔ورنہ ۴۰ سال کی عمر میں (ستیارتھ ب ۳ دفعہ ۳۴-۳۵) (1) وید میں ہے: 'بادل جو بمنزلہ باپ کے ہے۔زمین میں جو بمنزلہ دختر کے ہے۔باران کی صورت حمل قائم کرتا ہے۔“ (رگ وید منڈل نمبر اسکونت ۱۶۴منتر ۳۳ بحواله رگ وید آدی بھاش بھوم کا صفحہ ۱۶۳)