مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 26
26 26 علاوہ ازیں نیوگ کا حیا سوز مسئلہ ایسا ہے کہ فطرتِ انسانی اسے دھکے دے رہی ہے۔صرف ایک حوالہ نقل کرتا ہوں : سوامی دیانند صاحب سے کسی نے سوال کیا کہ جب ایک شادی ہوگی اور ایک عورت کے لئے ایک خاوند ہوگا۔اگر مرد و عورت دونوں جوان ہوں اور عورت حاملہ ہو یا مرد مریض ہو تو ان صورتوں میں اگر حاملہ عورت کے خاوند یا ایک مریض خاوند کی جوان عورت یا ایک مریض عورت کے جوان خاوند سے رہا نہ جائے تو کیا کرے۔سوامی جی کا جواب ملاحظہ فرمائیے : اگر حاملہ عورت سے ایک سال صحبت نہ کرنے کے عرصہ میں مرد سے یا دائم المریض مرد کی عورت سے رہا نہ جائے تو کسی سے نیوگ کر کے اس کے لئے اولاد پیدا کرے لیکن رنڈی بازی یا زنا کاری کبھی نہ کریں۔(ستیارتھ ب ۴ دفعہ ۱۴۶) حضرات ! انسانی کانشنس کیا ایک لمحہ کے لئے بھی یہ قبول کر سکتی ہے کہ ایسی حیا سوز تعلیم دینے والی کتاب کبھی خدا کا کلام ہو سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا فقرہ میں اس کے لئے اولاد پیدا کرے“ محض ڈھکوسلہ ہے کیونکہ جس صورت میں عورت حاملہ ہوگی اولاد کے حصول کے لئے کہیں اور جا کر نیوگ کرنا تحصیل حاصل ہے۔پس اصل علاج تو سوامی صاحب نے رہا نہ جائے“ کا بتایا ہے۔ہمارے گجرات ( پنجاب ) میں سوامی جی تشریف لائے اور آکر لیکچر دیا۔ایک شخص نے سوامی جی سے سوال کیا۔جس عورت کا خاوند کنجری کے پاس جائے اُس کی عورت کیا کرے؟ انہوں نے فرمایا: اس کی عورت بھی ایک مضبوط آدمی رکھ لے۔“ (جیون چرتر مصنفہ لیکھر ام و آتمارام صفحه ۳۵۵) حیرت ہے کہ اس تعلیم کو کامل مکمل بلکہ اکمل اور عالمگیر الہامی قرار دیا جاتا ہے۔گر یہی دیں ہے جو ہے ان کے خصائل سے عیاں میں تو اک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں زینہار (۵) خدا اعلیم گل ہے۔اس کے لئے تینوں زمانے یکساں ہیں۔وہ آئندہ کے حالات جانتا ہے کیونکہ وہی قدَّرَهُ تَقْدِيرًا (الفرقان: (۳) کا فاعل ہے مگر انسان ضعیف البنیان کمی علم کی وجہ سے آئندہ کے حالات نہیں جان سکتا۔پس انسانی اور الہامی کلام میں ایک یہ ما بہ الامتیاز ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں پیشگوئیاں ہوتی ہیں جو اسے انسانی کلام سے ممتاز و بالا ثابت کرتی ہیں۔ویدوں میں پیشگوئیوں کا نام تک نہیں مگر اس کے بالمقابل قرآن شریف نے آئندہ زمانہ کی اخبار بیان فرما کر آئندہ