مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 612 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 612

612 یا بعد میں کیونکہ وہ تو ۲۹ / مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۰ کے اہل حدیث میں مباہلہ پر آمادگی ظاہر کر چکا تھا۔اب مباہلہ حقیقۃ الوحی کے چھپنے سے قبل ہو یا بعد میں یہ حضرت کی مرضی پر موقوف تھا۔حضوڑ کا ارادہ کتاب کے چھپنے کے بعد مباہلہ کرنے کا تھا ، تا ثناء اللہ کو ایک اور موقعہ دیا جائے۔مگر اللہ تعالیٰ نے ثناء اللہ کی بدنیتی کو دیکھ کر فوراً حضرت کے ارادہ کو بدل دیا پس شاء اللہ کا اعتراض کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ایڈیٹر صاحب بدر کی تحریر باقی رہا مولوی ثناء اللہ کا یہ کہنا کہ بدر ۱۳ / جون ۱۹۰۷ ء صفحہ ۲ کالم نمبرا میں ایڈیٹر صاحب بدر نے لکھا ہے کہ مباہلہ قرار نہیں پایا تو اس کا جواب یہ ہے۔(۱) مولوی ثناء اللہ خود مانتا ہے کہ یہ تحریر ایڈیٹر صاحب بدر کی اپنی ہے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے۔” بے نور بدر کے ایڈیٹر نے کمال ایمانداری سے اپنا جواب تو شائع کر دیا۔( مرقع قادیانی نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۲۲۲)۔(ب)۔خود ایڈیٹر صاحب مفتی محمد صادق صاحب اخبار بدر کا بیان ہے کہ یہ تحریر ان کی اپنی طرف سے تھی، حضور ( مسیح موعود ) کے حکم یا علم سے نہیں لکھی گئی جیسا کہ وہ لکھتے ہیں: اخبار بدر مورخه ۱۳ / جون ۱۹۰۷ء صفحہ ۲ کالم نمبر اول میں جو نوٹ بعنوان نقل "خط بنام مولوی ثناء اللہ صاحب شائع ہوا ہے، یہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کے مطالبہ حقیقۃ الوحی کا جواب ہے جو میں نے خو دلکھا تھا اور یہ میرے ہی الفاظ ہیں کیونکہ حضرت اقدس نے اس کے متعلق کوئی ہدایت نہ دی تھی ، میں نے اپنی طرف سے جواب لکھ دیا تھا۔اس بیان کی اشاعت مناسب ہے تا کہ کوئی شخص اس نوٹ کو حضرت کی طرف منسوب کر کے مغالطہ نہ دے سکے۔“ تجلیات رحمانیہ صفحہ ۷۴ ابار اول از قلم ابو العطاء اللہ دتہ جالندھری مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۱ء) جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر چکے ہیں حضرت مسیح موعود اس اشتہار کو دعائے مباہلہ سمجھتے ہیں اور خود مولوی ثناء اللہ بھی اس کو دعائے مباہلہ ہی قرار دیتا تھا تو اس کے بالمقابل ایڈیٹر صاحب بدر کی تحریر حجت نہیں ہو سکتی ، جیسا کہ خود اہلحدیث کے مقابلہ میں کسی صحابی بلکہ حضرت علی کی تفسیر تک کو نہیں مانتے۔( اہلحدیث ۲ اکتوبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۲ کالم از بر عنوان اقتداء اہلحدیث) حضرت خلیفة البس الثانی ایدہ اللہ تعالی کی تحریر مولوی ثناء اللہ یہ کہا کرتا ہے کہ حضرت خلیفتہ اُسیح الثانی نے حضرت مسیح موعود کی وفات کے