مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 610
610 صفحه ۵۷۹، اشتہار مرقومه ۱۵ / اپریل ۱۹۰۷ء مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ صاف طور پر بتاتا ہے کہ حضرت اس مسودہ مباہلہ کو مکمل اسی صورت میں سمجھتے تھے جب ثناء اللہ بھی اس کے نیچے اپنی منظوری لکھدے۔ورنہ اگر یکطرفہ دعا ہوتی تو اس کے نیچے ثناء اللہ کے لکھنے یا نہ لکھنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔۱۰۔حضرت اقدس کا لکھنا کہ اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحه ۵۷۹ مرقومه ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء) صاف طور پر ثابت کرتا ہے کہ حضرت کا منشاء یہی تھا کہ ثناء اللہ کے ہاتھ سے حضور کی دعا اور اپنی تصدیق دونوں ایک ہی جگہ جمع ہو جائیں تا مسودہ مباہلہ مکمل ہوکر ثناء اللہ کا خاتمہ کر دے۔11۔مولوی ثناء اللہ خود لکھتا ہے : ”مرزا جی نے میرے ساتھ مباہلہ کا ایک طولانی اشتہار دیا۔(مرقع قادیانی دسمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۱۲۔وہ ( حضرت مسیح موعود ) اپنے اشتہار مباہلہ ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء میں چیخ اٹھا تھا کہ اہلحدیث نے میری عمارت کو ہلا دیا ہے۔“ (اہلحدیث ۱۹ جون ۱۹۰۸ء) ۱۳۔حضور لکھتے ہیں : میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے دشمنوں کی زندگی میں ہی نا کام ہو جاتا ہے۔“ اور ہم ابھی حضرت کے مفلوظات ( از احکم ۱۰ار اکتوبر ۱۹۰۷ء) سے دکھا چکے ہیں کہ یہ اصل صرف اور صرف مباہلہ ہی کی صورت میں ہوتا ہے۔۱۴۔حضرت اقدس نے اپنے اس اشتہا میں جو انجام جھوٹے کا تحریر فرمایا ہے وہ بعینہ وہی ہے جو انجام آتھم میں حضرت نے جھوٹا مباہلہ کرنے والے کا تحریر فرمایا ہے۔دیکھیں انجام آتھم صفحه ۶۵ تا صفحہ ۲ ۷ نیز دیکھیں صفحہ ۱۶۵۔۱۵۔مولوی ثناء اللہ لکھتا ہے۔”مرزائیوا کسی نبی نے بھی اس طرح اپنے مخالفوں کو اس طریق سے فیصلہ کے لئے بلایا ہے؟ بتلاؤ تو انعام لو۔“ (الحدیث ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ء) اگر حضور کا اشتہار ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ء ( مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحه ۵۷۹ ) محض یک طرفه بد دعا تھی تو یہ کوئی ایسی بات نہیں جو پہلے انبیاء میں نہ ملتی ہو اور جس کا ثناء اللہ کو انکار ہوجیسا کہ وہ لکھتا ہے: اس قسم کے واقعات بیشمار ملتے ہیں جن میں حضرات انبیاء علیہم السلام نے مخالفوں پر