مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 24
24 24 کرنا مدعی سُست گواه چیست بلکه مدعی مفقود اور گواہ موجود“ کا مصداق ہے۔(۲) وہی کتاب مکمل الہامی کہلا سکتی ہے جو اس منبع ہدایت (خدا) کے متعلق نہایت اعلیٰ اور اکمل تعلیم دے۔جو کتاب خدا تعالیٰ کو نہایت بھیانک شکل میں پیش کرتی ہے وہ کبھی الہامی نہیں ہو سکتی۔قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کی مختلف صفات بیان کر کے فرمایا فَلَهُ الْأَسْمَا الْحُسَىٰ (بنی اسرائیل : ) ہر قسم کی خوبیاں خدا تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ ہر قسم کی برائی سے پاک ہے۔کیسی اعلیٰ اور اکمل تعلیم ہے۔یوں کی خدا کے متعلق تعلیم ملاحظہ ہو: لاعلم خدا:۔خدا کہتا ہے :۔” اس دنیا میں پاپ اور پٹن بھو گنے کے دو راستے ہیں۔ایک عارفوں یا عالموں کا۔دوسرا علم و معرفت سے معرا انسانوں کا۔میں نے یہ دور سنتے سنے ہیں۔“ (بجر دید ادھیائے ۱۹ منتر ۴۷ اردو تر جمہ عبدالحق ودیارتھیجواله رگ وید آدی بھاش بھومکا مترجم نہال سنگھ صفحہ ۱۲۲) پھر خدا پوچھتا ہے:۔”اے بیا ہے ہوئے مرد عور تو تم دونوں رات کو کہاں ٹھہرے تھے اور دن کہاں بسر کیا تھا اور کھانا وغیرہ کہاں کھایا تھا۔تمہارا وطن کہاں ہے۔جس طرح بیوہ (نیوگن ) اپنے دیور (نیوگی خاوند ) کے ساتھ شب باش ہوتی ہے اسی طرح تم کہاں شب باش ہوئے تھے۔“ رگ وید اشنگ ۷را دھیائے ۸ ورگ نمبر ۱۸ منتر ۲ بھومکا صفحہ ۲۵ اوستیارتھ پر کاش باب ۴ دفعه ۱۳۰) چور خدا: ”اے اندر دولتوں سے مالا مال پر میشور ! ہم سے الگ مت ہو۔ہماری مرغوب سامان خوراک مت چرا اور نہ کسی اور سے چروا (رگ وید اشنگ سوکت نمبر ۱۹ ترقی نمبر ۸ آریہ بھومی صفحه ۵۸ مصنفہ دیانند) تفصیل دوسری جگہ درج ہے۔بع قیاس کن زگلستان من بهار مرا (۳) ہما را روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انسانی ہاتھ کی ایجاد ہو دوسرا انسان اس کی تعمیر کی طاقت رکھتا ہے مگر صانع قدرت کی مصنوعات کو بنانے کی کوشش تضیع اوقات ہے پس الہی کلام میں یہی مابہ الامتیاز ہے کہ وہ بے مثل ہوتا ہے۔قرآن شریف نے بانگ دہل تمام دنیا کو اپنے مقابل پہ بلا کر کہا: قُل نَّبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسَ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا (بنی اسرائیل : ۸۹) کہ اگر تمام جن اور انسان جمع ہو کر بھی قرآن کریم کی نظیر لانے کی کوشش کریں تو بھی اس کی مثل نہیں لاسکیں گے۔چنانچہ واقعات نے بتا دیا