مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 600
600 مگر کسی طرح اس ( حضرت مسیح موعود ) کی بیبا کی اور سرکشی میں کمی نہ ہوئی، مرزائیوں کا ارتداد اور کفر بے حد بڑھتا گیا۔جس کی تفصیل ” کانا دجال“ کے مطالعہ سے ظاہر ہوگی۔ایک موقعہ پر بے اختیار میری زبان سے یہ بد دعا نکلی، اے خدا اس ظالم کو جلد غارت کر۔اے خدا اس بدمعاش ( خاکش بدہن، خادم ) کو جلد غارت کر اے خدا اس بد معاش کو جلد غارت کر “ اس لئے ۴ /اگست ۱۹۰۸ء مطابق ۲۱ ساون سمت ۱۹۶۵ ء تک کی میعاد بھی منسوخ کی گئی۔(اعلان الحق و اتمام الحجہ وتکملہ از ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی صفحه ۹) جائے گا۔۲۔پھر اپنے ۸ مئی ۱۹۰۸ء کے خط میں لکھتا ہے:۔”مرزا قادیانی کے متعلق میرے جدید الہامات شائع کر کے ممنون فرما دیں:۔(۱) مرزا ۲۱ رساون سمت ۱۹۶۵ء (۴ /اگست ۱۹۰۸ء) کو مرض مہلک میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو (۲) مرزا کے کنبہ میں ایک بڑی معرکتہ الآراء عورت مر جائے گی۔پیسه اخبار ۱۹۰۸ء ۱۵ رمتی و اہلحدیث ۱۵ مئی ۱۹۰۸ ء ) گویا اب اس نے ۴ را گست ۱۹۰۸ء کی تعیین کر دی۔اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر بڑھانے کی ضرورت نہ رہی۔آپ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو فوت ہوئے اور اس کے شر سے محفوظ رہے وہ جھوٹا ہو گیا اور حضرت مسیح موعود کی اپنی پیشگوئیوں کے مطابق ۲۷ کو حضور کا جنازہ لاہور سے قادیان کی طرف لایا گیا اور حضور دار الامان میں مدفون ہوئے۔کو کی صحت کا ثبوت م را گست تک والا " الہام ۶ ار فروری ۱۹۰۸ ء کا ہے۔(اعلان الحق و تکملہ واتمام الحجہ از ڈاکٹر عبد الحکیم پٹیالوی صفحه ۸) مگریم را گست کو والا " الہام مئی کے پہلے ہفتہ کا ہے۔(دیکھو اعلان الحق و اتمام الحجة و تکملہ از ڈاکٹر عبد الحکیم پٹیالوی صفحه ۳۲ سطر ۱۸) دو ۲۔تک والا " الہام جدید نہیں بلکہ تین مہینے کا پرانا الہام تھا۔۸ مئی کو اس نے کو والا الہام“ لکھا ہے اور اس کو جدید قرار دیا ہے اور خود اقرار کیا ہے کہ مئی ۱۹۰۸ء میں مجھے کو والا الہام ہوا تھا۔( دیکھو اعلان الحق وغیرہ از ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی صفحه ۳۲)