مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 589 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 589

589 کوشش کیوں کی گئی ؟ باقی رہا تمہارا یہ کہنا کہ اگر وعدہ خدا کی طرف سے تھا تو پھر اس کو پورا کرنے کے لئے کوشش کیوں کی گئی اور دوسرے فریق کے بعض لوگوں کو خطوط کیوں لکھے گئے؟ جواب:۔سو یا د رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ جن لوگوں سے وعدہ فرماتا ہے ان کی مدد اسی صورت میں فرمایا کرتا ہے۔جب وہ خود بھی جہاں تک ممکن ہو سکے اس وعدہ الہی کے پورا کرنے میں کوشش کریں مثلاً آنحضرت کے ساتھ فتح کا وعدہ تھا مگر کیا حضور نے جنگ کے لئے تیاری نہیں فرمائی، کیا لشکر تیار نہیں کیا ؟ حضرت یوسف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ان کو کامیاب و کامران کرے گا- لَتُنَبَتَنهُمُ بِاَمْرِهِمُ هَذَا۔پھر بھی حضرت یوسف نے جیل خانہ میں سے ایک مشرک شخص سے سفارش کروائی اور اسے کہا کہ اذكرني عِنْدَرَ بكَ (يوسف:۴۳) کہ بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کرنا۔آنحضرت سے وعدہ تھا کہ تمام عرب مسلمان ہوگا پھر کیا حضور نے تبلیغ کا کام بند کر دیا تھا؟ پس رعایت اسباب ضروری ہے، نیز اتمام حجت کی غرض سے بھی حضرت مسیح موعود کا ان لوگوں کو خطوط لکھنا ضروری تھا کیونکہ اگر بصورت عدم تو بہ ان پر عذاب آتا تو وہ کہہ سکتے تھے کہ ہمیں اس پیشگوئی کا علم ہی نہ تھا، اس لئے ہم بے قصور ہیں خود حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں: یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ احمد بیگ کی لڑکی کے لئے طرح طرح کی امید دینے سے کیوں کوشش کی گئی نہیں سمجھتے کہ وہ کوشش اسی غرض سے تھی کہ وہ تقدیر اس طور سے ملتوی ہو جائے اور وہ عذاب ٹل جائے۔یہی کوشش عبداللہ انتم اور لیکھرام سے بھی کی گئی تھی۔یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ کسی پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے کوئی جائز کوشش کرنا حرام ہے۔ذرہ غور سے اور حیا سے سوچو کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن شریف میں یہ وعدہ نہیں دیا گیا تھا کہ عرب کی بُت پرستی نابود ہوگی اور بجائے بُت پرستی کے اسلام قائم ہو گا۔اور وہ دن آئے گا کہ خانہ کعبہ کی کنجیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہوں گی۔جس کو چاہیں گے دیں گے۔اور خدا یہ سب کچھ آپ کرے گا مگر پھر بھی اسلام کی اشاعت کے لئے ایسی کوشش ہوئی جس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۷)