مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 587 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 587

587 متعلق لکھتے ہیں :۔وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ قَصَدَتْ مُخَالِطَتَهُ وَهَمَّ مَخَالِطَتَهَا لِمَيْلِ الشَّهَوَاتِ الْغَيْرِ الاختيارى (جامع البیان صفحه ۲۰۳ نیز جلالین مجتبائی صفحه ۱۹) کہ نعوذ باللہ حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی زلیخا سے زنا کا ارادہ کیا۔(۳) حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق ان مفسرین نے لکھا ہے۔طَلَبَ امْرَءَ ةَ شَخْصِ لَيْسَ لَهُ غَيْرُهَا وَتَزَوَّجَهَا وَدَخَلَ بِهَا (جلالین مجتبا ئی صفحہ ۳۷۸ حاشیہ ) کہ حضرت داؤد نے ایک شخص ( اور یاہ نامی ) کی بیوی لے لی۔اور اپنی سو بیویاں کیں۔(نعوذ باللہ من شرورهم ) (۴) اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق اسی جلالین کے صفحہ ۳۸۰ پر لکھا ہے کہ آپ ایک عورت پر عاشق ہو گئے اور پھر اس سے نکاح کر لیا (معاذ اللہ ) غرضیکہ پہلے انبیاء کے متعلق بھی یہی بے ہودہ گوئی رہی ہے اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق معاندین وہی شیوہ اختیار کریں تو انہیں معذور سمجھنا چاہیے۔بہو کو طلاق دلوانا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیشک احمد بیگ وغیرہ کو لکھا تھا کہ اگر تم یہ رشتہ نہ دو گے تو میں اپنے بیٹے فضل احمد سے کہہ کر تمہاری لڑکی کو طلاق دلوا دوں گا مگر اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔کیونکہ شریعت اسلامی کے متعلق خسر کو حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنے بیٹے کو حکم دے کر طلاق دلوا سکتا ہے، خواہ بیٹا رضامند ہو یا نہ ہو۔چنانچہ حدیث میں ہے:۔(۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَتْ تَحْتِى اِمْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا فَأَمَرَنِي أَنْ اطَلَّقَهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ عُمَرَ طَلِّقُ امْرَاتَكَ ترندی کتاب الطلاق باب ما جاء في الرجل يسأله ابوه ان يطلق امراته ومشکوۃ مجتبائی صفحہ ۴۲۱ باب الشفعة ) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میری ایک بیوی تھی جس سے مجھے محبت تھی لیکن میرے باپ ( حضرت عمرؓ) اس سے نفرت کرتے تھے، پس انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں مگر میں نے انکار کیا۔پھر میں نے آنحضرت سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا۔اے عبداللہ بن عمرؓر