مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 21
21 میں مختلف بیماریوں کی حالت کے مطابق مختلف نسخے تجویز کرتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی لوگوں کے مختلف حالات کے مطابق شریعت تجویز کرتا ہے۔مثلاً بنی اسرائیل عرصہ دراز تک محکوم رہنے کی وجہ سے بے غیرتی کے مرض میں مبتلا ہو چکے تھے۔اس وقت خدا نے نسخہ بھیجا کہ کان کے بدلے کان، ناک کے بدلے ناک، آنکھ کے بدلے آنکھ۔غرض اسی طرح پُر زور طریقوں سے ان میں جوشِ انتقام پیدا کیا پھر جب چودہ سو برس کا لمبا عرصہ گزر گیا اور حضرت عیسی کا وقت آیا۔اس وقت یہودی نہایت انتقام گیر اور کینہ تو ز تھے۔اس لئے ان کے لئے جو نسخہ آیا اس میں درج تھا کہ اگر کوئی شخص تیرے داہنے گال پر تھپٹر مارے تو بایاں گال بھی اس کے آگے کر دو۔اس کے بعد جب ایسے وسائل پیدا ہونے لگے اور وہ زمانہ آگیا کہ دنیا کے لوگ دور دراز ملکوں کے آپس میں ملنے لگے۔تب ایک مکمل نسخہ آیا جس کی موجودگی میں کسی اور نسخہ کی ضرورت نہ رہی۔اس میں نسخہ لکھنے والے حکیم مطلق نے لکھا کہ موقع ومحل کے مطابق عمل کرو۔انتقام کے موقع پر انتقام۔عفو کے موقع پر عفو غرض اختلاف مذاہب سے یہ بات ثابت نہیں کہ وہ ایک سرچشمہ سے نہیں نکلے بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کی طبیعتوں اور حالتوں میں اختلاف ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو دنیا میں جس قدر مذاہب ہیں اصول میں وہ سب متفق ہیں اور سب ایک اصول پر مجتمع ہیں اور جو اختلاف ہم کو نظر آتا ہے وہ بعد میں آنے والوں کی ملاوٹ اور تحریف کا نتیجہ ہے۔ہاں اگر فروع میں کہیں کہیں کوئی فرق نظر آئے تو وہ قوموں کی حالتوں کی تبدیلی کی وجہ سے ہے۔(۳) اعتراض سوم:۔اگر کوئی خدا ہوتا تو دنیا میں یہ تفرقہ نہ ہوتا۔کوئی غریب ہے کوئی امیر کوئی مریض اور کوئی تندرست۔کوئی کمزور اور کوئی طاقتور۔جواب اوّل:۔یہ اعتراض تو ایسا ہے جیسا کہیں کہ ہندوستان یا پاکستان کا کوئی حاکم نہیں کیونکہ یہاں تفرقہ ہے۔کوئی ڈپٹی کمشنر ہے کوئی گورنر۔جواب دوم : اللہ تعالیٰ نے چاند ، سورج، ہوا، پانی وغیرہ سب کو یکساں طور پر دیئے ہیں پھر ترقی کرنے کے اصول اور قوانین مقرر کر دیئے ہیں۔ایک شخص ان قانونوں پر عمل کر کے ترقی کر جاتا ہے۔دوسرا شخص غفلت سے کام لے کر ان قواعد پر عمل پیرا نہیں ہوتا اور اس طور پر ترقی کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔جیسا کہ گورنمنٹ نے سکول اور کالج کھولے ہیں بعض ان کے ذریعہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن بعض ان کے قواعد پر پوری طرح عمل نہ کر کے علم سے بے بہرہ رہ جاتے ہیں۔جواب سوم :۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک افسر کے ماتحت کئی مختلف ملازم ہوتے ہیں۔کوئی