مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 558 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 558

558 لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرَ صَالِحٍ فَلَا تَتَلَن مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَهِدِينَ (هود: ۴۶ - ۴۷) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو اور کہا اے اللہ ! میرا بیٹا تو میرے اہل میں سے تھا اور تیرا وعدہ بھی سچا (ہوتا) ہے اور تو ( تو ) احکم الحاکمین ہے ( یعنی سب سے زیادہ سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نوح ! وہ تیرے اہل میں سے نہیں تھا کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے۔پس تو مجھ سے ایسی بات کے متعلق گفتگو نہ کر جس کا تجھ کو علم نہیں۔میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے نہ بن۔ان آیات سے صاف طور پر ثابت ہوا کہ نبی ایک وقت تک وحی سمجھنے میں غلطی کر سکتا ہے ہاں خدا تعالیٰ اس کو غلطی پر قائم نہیں رکھتا جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے بھی فرمایا ہے۔اگر سوال ہو کہ حضرت نوح کتنا عرصہ تک اس اجتہادی غلطی میں مبتلا رہے تو اس کے لئے تفسیر حسینی کا ملاحظہ کرنا چاہیے۔لکھا ہے:۔حضرت نوح علیہ السلام کو جب یہ الہام ہوا لا تُخَاطِنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُّخْرَقُونَ تو اس کے بعد انہوں نے وہ درخت بویا جس کی لکڑی سے کشتی بنائی گئی۔وہ درخت میں سال میں مکمل ہوا۔اسے کاٹ کر حضرت نوح دو سال تک وہ کشتی بناتے رہے۔چالیس دن رات طوفان نے جوش مارا اور کشتی طوفان میں چھ ماہ تک رہی۔گویا اصل ”اہل“ والے الہام کے نازل ہونے سے لیکر کشتی سے اترنے تک کم از کم 12 22 سال ہوتے ہیں۔“ تلخیص از تفسیر حسینی موسومه به تفسیر قادری مترجم اردوز یر آیت واصنع الفلک باعيننا (هود:۳۸) ۵۔پھر اہل سنت والجماعت کے عقائد کی مشہور و معروف کتاب نبر اس شرح الشرح العقائد نسفی صفحہ ۳۹۲ میں لکھا ہے:۔إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ يَجْتَهِدُ فَيَكُونُ خَطَا كَمَا ذَكَرَهُ الأصُولِيُّونَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشَاوِرُ الصَّحَابَةَ فِيمَ لَمْ يُوحَ إِلَيْهِ وَ هُمُ يُرَاجِعُونَهُ فِي ذَلِكَ وَ فِى الْحَدِيثِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثْتُكُمْ عَن اللَّهُ سُبْحَانَهُ فَهُوَ حَقٌّ وَمَا قُلْتُ فِيْهِ مِنْ قَبْلِ نَفْسِى فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُخْطِئُءُ وَأُصِيبُ کہ آنحضرت کبھی کبھی اجتہاد بھی کرتے تھے اور کبھی وہ غلط بھی ہو جاتا تھا جیسا کہ اصولیوں نے لکھا ہے اور ان امور میں جن کے متعلق آپ پر وحی نازل نہ ہوئی ہوتی آپ اپنے صحابہ سے مشورہ لیا کرتے تھے اور حدیث میں ہے کہ آپ نے