مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 557 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 557

557 خیال اس طرف گیا کہ وہ یمامہ ہے یا ہجر مگر دراصل وہ تھامد بینہ (يثرب) حالانکہ رُؤْيَا النَّبِيِّ وَحُى - (بخاری کتاب الوضو باب تخفیف فی الوضوء ) نبی کی رؤیا وحی ہوتی ہے۔چنانچہ بخاری میں رویائے نبوی کو وحی میں شامل کیا گیا ہے۔اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَاءِ الصَّالِحَة۔(بخارى كتاب التفسير باب قوله خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ) کہ آنحضرت کو وحی میں سب پہلے رو یا صادقہ شروع ہوئیں۔۔آنحضرت نے اپنی ازواج سے فرمایا۔اَسْرَعُكُنَّ لَحُوقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا یعنی تم میں سب سے پہلے میری وفات کے بعد جو آ کر مجھ سے اگلے جہاں میں ملے گی وہ وہ ہے جس کے ہاتھ تم سب سے زیادہ لمبے ہیں۔بیویوں نے حضور کے سامنے اپنے اپنے ہاتھ نا پے تو ہاتھ لمبے حضرت سودہ کے تھے مگر وفات سب سے پہلے حضرت زینب نے پائی جس سے معلوم ہوا کہ لمبے ہاتھ سے مراد ظاہری ہاتھوں کا لمبا ہونا نہ تھا بلکہ سخاوت کرنے والی مر تھی۔“ (بخاری کتاب الزكاة حديث نمبر ۴۲۰ باب انا اسرع بک لحوقا و مسلم کتاب فضائل الصحابه باب من فضائل زينب بحواله مشكوة كتاب الزكاة الفصل الثالث) ۴۔قرآن کریم میں بھی حضرت نوح کا واقعہ مذکور ہے۔واضعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْنَا وَلَا تُخَاطِنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوْا إِنَّهُمْ مُّخْرَقُونَ (هود: ۳۸) کہ خدا تعالیٰ نے حضرت نوع کو وحی کی اور حکم دیا کہ تو ہمارے حکم سے ایک کشتی بنا۔تو ظالموں کے متعلق ہم سے کوئی بات نہ کرنا کیونکہ وہ ضرور غرق ہو جائیں گے۔پھر فرمایا۔قُلْنَا احْمِلُ فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ (هود: (۴۱) کہ ہم نے کہا اے نوح ! اس کشتی میں سوار کر ہر ایک جوڑے میں سے دودو اور اپنے اہل کو بھی بجز اس کے جس کے متعلق پہلے ہم کہہ چکے ہیں اور مومنوں کو بھی۔پس جب طوفان تلاطم خیز آیا اور حضرت نوح کا بیٹا ( جو ظالم تھا اور جس کے متعلق حکم تھا إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ (هود: (۴۱) کہ اس کو کشتی میں نہ بٹھانا ) جب وہ ڈوبنے لگا تو نَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يُبْنَى اركب معنا (هود:۴۳) حضرت نوح نے اس کو آواز دی اور کہا کہ اے بیٹا ! ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو جا، مگر وہ نہ آیا اور ڈوب گیا۔اس پر حضرت نوح خدا تعالیٰ کو کہتے ہیں۔وَنَادَى نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِى وَإِنْ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَاَنْتَ أَحْكَمُ الْحَكِمِينَ قَالَ يَتُوحُ إِنَّهُ