مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 556
556 ضروری ہے۔کیونکہ اس دھوکہ کا علم اصل عبارت کو پڑھنے سے ہی ہوسکتا ہے۔۴۵ و بعض الہامات مرزا صاحب سمجھ نہ سکے اور بعض کے غلط معنی سمجھے" جواب: - حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں:۔ا۔انبیاء اور مسلمین صرف وحی کی سچائی کے ذمہ وار ہوتے ہیں اپنے اجتہاد کے کذب اور خلاف واقعہ نکلنے سے وہ ماخوذ نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ ان کی اپنی رائے ہے نہ خدا کا کلام۔“ اعجاز احمدی ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۱۵) اصل بات یہ ہے کہ جس یقین کو نبی کے دل میں اُس کی نبوت کے بارے میں بٹھایا جاتا ہے وہ دلائل تو آفتاب کی طرح چمک اُٹھتے ہیں اور اس قدر تواتر سے جمع ہوتے ہیں کہ وہ امر بدیہی ہو جاتا ہے۔اور پھر بعض دوسری جزئیات میں اگر اجتہاد کی غلطی ہو بھی تو وہ اس یقین کو مضر نہیں ہوتی جیسا کہ جو چیزیں انسان کے نزدیک لائی جائیں اور آنکھوں کے قریب کی جائیں تو انسان کی آنکھ اُن کے پہنچانے میں غلطی نہیں کھاتی اور قطعا حکم دیتی ہے کہ یہ فلاں چیز ہے اور اس مقدار کی ہے اور وہ حکم صحیح ہوتا ہے لیکن اگر کوئی چیز قریب نہ لائی جائے اور مثلاً نصف میل یا پاؤ میل سے کسی انسان کو پوچھا جائے کہ وہ سفید شے کیا چیز ہے تو ممکن ہے کہ ایک سفید کپڑے والے انسان کو ایک سفید گھوڑا خیال کرے یا ایک سفید گھوڑے کو انسان سمجھ لے۔پس ایسا ہی نبیوں اور رسولوں کو اُن کے دعویٰ کے متعلق اور اُن کی تعلیموں کے متعلق بہت نزدیک سے دکھایا جاتا ہے اور اس میں اس قدر تواتر ہوتا ہے، جس میں کچھ شک باقی نہیں رہتا لیکن بعض جزوی امور جو اہم مقاصد میں سے نہیں ہوتے اُن کو نظر کشفی دور سے دیکھتی ہے اور اُن میں کچھ تو اتر نہیں ہوتا۔اس لئے کبھی اُن کی تشخیص میں دھوکا بھی کھا لیتی ہے۔“ ( اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۳۵) ۲۔حدیث میں ہے۔قَالَ أَبُو مُوسى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَّكَّةَ إِلى اَرْضِ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهْلِيُّ إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرٌ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَقُرِبُ۔(بخاری کتاب التعبير باب هجرة النبى و اصحابه الى المدينة و كتاب الحیل باب اذا راى بقرا تنحر ) ترجمہ:۔حضرت ابو موسی سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کہ بہت کھجوریں ہیں۔پس میرا