مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 17 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 17

17 سچے دل سے کوئی شخص دعا کرے گا اور کم سے کم چالیس دن تک اس پر عمل کرے گا تو خواہ اس کی پیدائش کسی مذہب میں ہوئی ہو وہ کسی ملک کا باشندہ ہو رب العالمین ضرور اس کی ہدایت کرے گا اور وہ جلد دیکھ لے گا کہ اللہ تعالیٰ ایسے رنگ میں اس پر اپنا وجود ثابت کر دے گا کہ اس کے دل کی شک وشبہ کی نجاست بالکل دور ہو جائے گی اور یہ تو ظاہر ہے کہ اس طریق فیصلہ میں کسی قسم کا دھوکہ نہیں ہوسکتا۔پس سچائی کے طالبوں کے لئے اس پر عمل کرنا کیا مشکل ہے؟ گیارہویں دلیل: دنیا میں تمام اشیاء جس قدر ہمیں دکھائی دیتی ہیں سب مرکب ہیں۔ہوا کولو وہ بھی مرکب ہے۔پانی بھی مرکب ہے۔لہذا جب سب مرکب ہو ئیں تو ان کو ترکیب کرنے والا بھی ضروری ہے۔اگر کہو کہ وہ خود بخود مرکب ہو سکتی ہیں تو یہ بات مشاہدہ غلط ہے مثلاً درخت سے پھل یا پتے تو ڑ کر پھینک دیئے جائیں تو وہی پھل اور پتے دوبارہ خود بخود اس درخت سے نہیں لگتے جس سے ثابت ہوا کہ مرکب ہونا اُن کا خاصہ نہیں ورنہ جب توڑے جاتے پھر لگ جاتے۔بارہویں دلیل: نظام عالم میں ترتیب ہے۔مثلاً سورج روشنی دیتا ہے۔کھیتیاں پکاتا ہے۔وغیرہ۔چاند رات کی مشعل ہے۔پانی پیاس بجھاتا ہے۔غرض دنیا میں بہت سی چیزیں انسان کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔اب ان کے متعلق تین ہی صورتیں عقل میں آسکتی ہیں (۱) یا تو کہا جائے کہ یہ سب اتفاقی ہیں لیکن یہ بات غلط ہے کیونکہ اتفاقی وہ ہوتی ہے جو کبھی ہو کبھی نہ ہو۔(۲) دوسری صورت یہ ہے کہ وہ سب اپنی مرضی سے ایسا کرتے ہیں تو اس صورت میں بجائے ایک خدا کے کئی خدا تسلیم کرنے پڑیں گے۔(۳) تیسری صورت یہ ہے کہ ہم کہیں۔نہ یہ سب اتفاقی ہیں نہ اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں بلکہ سب کے سب ایک حکمران کے قبضہ قدرت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔غرض تینوں صورتوں سے دہریوں کا مذہب باطل ہے۔تیرہویں دلیل: دنیا یا خود بخود ہے یا کسی نے بنائی ہے۔اگر کہو کہ خود بخود ہے تو یہ بات درست نہیں کیونکہ عدم سے وجود میں آنا ایک فعل ہے اور کوئی فعل بغیر فاعل کے نہیں ہوتا اور فاعل کا وجود فعل سے پہلے موجود