مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 528 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 528

528۔وہ حدیث جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حوالہ دیا ہے مسلم میں ہے۔عن ابی هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي يَا ابْنَ ادَمَ اسْتَطْعَمُتُكَ فَلَمْ تُطْعِمُنِي يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تُسْقِنِي (مسلم كتاب البر والصلة باب عيادة المريض ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کو کہے گا۔اے ابن آدم ! میں بیمار تھا۔تو نے میری تیمار داری نہ کی اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھان نہ کھلایا اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے مجھے نہ پلایا۔الخ (بحوالہ ریاض الصالحين كتاب عيادة المريض وتشييع الميت) پس خدا بیمار ہوسکتا ہے۔بھوکا پیاسا ہوسکتا ہے۔مگر روزہ نہیں رکھ سکتا۔٣١ - اُخْطِئُ وَ أُصِيبُ جواب:۔۱۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی مندرجہ ذیل تشریح فرمائی ہے:۔اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ بھی دونگا اور بھی ارادہ پورا کرونگا۔جیسا کہ احادیث میں لکھا ہے کہ میں مومن کی قبض روح کے وقت تردد میں پڑتا ہوں۔حالانکہ خداتر ڈو سے پاک ہے اسی طرح یہ وحی الہی ہے کہ کبھی میرا ارادہ خطا جاتا ہے اور کبھی پورا ہو جاتا ہے۔اس کے یہ معنی ہیں کہ کبھی میں اپنی تقدیر اور ارادہ کو منسوخ کر دیتا ہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہا ہوتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۶) ۲۔وہ حدیث جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اشارہ فرمایا ہے۔بخاری میں ہے:۔وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِى عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ۔“ (بخاری کتاب الرقاق باب التواضع) خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے کسی چیز کے متعلق کبھی اتنا تر در نہیں کیا جتنا ایک مومن کی روح قبض کرنے کے وقت مجھے ہوتا ہے۔۳۲۔کرمہائے تو مارا کرد گستاخ یہ حضرت مرزا صاحب کا الہام ہے مگر حضرت مرزا محمود احمد صاحب فرماتے ہیں:۔