مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 515
515 ۲۔حدیث شریف میں ہے:۔اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا۔“ (بخارى كتاب التهجد باب الدعا و الصلوة من آخر الليل ومشكوة كتاب الصلواة باب التحريض على قیام اللیل ) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب ہر رات پہلے آسمان پر اتر آتا ہے۔کیا معنے ؟ لکھا ہے:۔(الف) - النُّزُولُ وَالْهُبُوطُ وَالصَّعُودُ وَالْحَرَكَاتُ مِنْ صِفَاتِ الْأَجْسَامِ وَاللَّهُ تَعَالَى مُتَعَالٍ عَنْهُ وَالْمُرَادُ نُزُولُ الرَّحْمَةِ وَقُرْبُهُ تَعَالى۔‘ ( حاشیہ مشکواۃ مجتبائی کتاب الــصـــولـة بــاب التحريض علی قیام اللیل ) کہ نازل ہونا، اترنا، چڑھنا اور حرکات یہ تو اجسام کی صفات ہیں۔خدا تعالیٰ ان سے پاک ہے اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے سے مراد اس کی رحمت کا نازل ہونا اور اس کے قرب کا حاصل ہونا ہے۔(ب)۔اسی حدیث کی شرح میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:۔قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا (الحديث) قَالُوا هَذَا كِنَايَةٌ عَنْ تَهِيوِ النُّفُوسِ لِاسْتِزَالِ رَحْمَةِ اللَّهِ۔۔۔وَ عِنْدِى إِنَّهُ مَعَ ذَالِكَ كَنَا يَةٌ عَنْ شَيْءٍ مُّتَجَدِدٍ يَسْتَحِقُ أَنْ يُعَبَّرَ عَنْهُ بِالنَّزُولِ۔" ( الحجة البالغة جلد۲ صفحہ ۳۷ باب النوافل مترجم اردو مطبوعه حمایت اسلام پریس ) ترجمه از شموس الله البازغة:۔اور نبی صلعم نے فرمایا ہے يَنزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ الخ یعنی جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہتا ہے تو ہمارا پر وردگار آسمانِ دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی ہے کہ مجھ سے کچھ طلب کرے تو میں اس کی مراد پوری کروں۔الخ علماء نے اس حدیث کے یہ معنی کئے ہیں کہ نفس انسانیہ اس بات کے قابل ہو جائے کہ رحمت الہیہ کے نزول کو برداشت کر سکے اور میرے نزدیک اور معنی بھی ہو سکتا ہے۔وہ یہ ہے کہ دل کے اندر کوئی نئی چیز پیدا ہو جائے کہ جس کو نزول کے ساتھ بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔“ (حاشیہ صفحہ ۳۷ جلد۲) ۳۔موطا امام مالک صفحہ ہے کے حاشیہ باب ماجاء فی ذکر اللہ میں لکھا ہے:۔قَوْلُهُ يَنْزِلُ رَبُّنَا أَى نُزُولُ رَحْمَةٍ۔“ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ خدا نازل ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔