مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 493
493 یادر ہے کہ خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے۔نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا ہے اور نہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں لیکن یہ فقرہ اس جگہ قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہاتھ قرار دیتا ہے اور فرمایا يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمُ (الفتح :(۱) ایسا ہی بجائے قُلْ يَعِبَادِ اللهِ (یعنی کہہ دے اے اللہ کے بندو! خادم ) کے قُل لِعِبَادِی (الزمر : ۵۴ ) ( یعنی اے نبی ! ان سے کہہ۔اے میرے بندو! ) اور یہ بھی فرما یا فاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ (البقرة : ۲۰۱) پس اس خدا کے کلام کو ہشیاری اور احتیاط سے پڑھو اور از قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لاؤ اور یقین رکھو کہ خدا اتخاذ ولد سے پاک ہے اور میری نسبت بینات میں سے یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا الهُكُمُ الهُ وَاحِدٌ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ ) اربعین نمبر ۲ صفحه ۸ بحوالہ براہین احمدیہ صفحہ ۴۱ ) ( یعنی کہہ دے کہ میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں جس پر وحی ہوتی ہے بیشک تمہارا ایک ہی خدا ہے اور سب خیر و خوبی قرآن میں ہے۔( دافع البلاء روحانی خزائن جلد ۱۸ حاشیه صفحه ۶- تذکر صفحہ ۳۹۷ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ۲۔قرآن مجید میں ہے۔فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءكُمْ کہ خدا کو اس طرح یاد کرو جس طرح تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔گویا خدا ہمارا باپ نہیں ہے مگر بمنزلہ باپ ہے۔جس طرح ایک بیٹا اپنا ایک ہی باپ مانتا ہے اور اس رنگ میں اس کی توحید کا قائل ہوتا ہے۔اسی طرح خدا بھی چاہتا ہے کہ اس کو وحدہ لاشریک یقین کیا جائے اور جو اس رنگ میں خدا تعالیٰ کی توحید کا قائل اور اس کے لئے غیرت رکھنے والا ہو وہ خدا تعالیٰ کو بمنزلہ اولاد ہوگا۔۳۔الہام میں اَنْتَ وَلَدِی نہیں بلکہ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِی ہے جو صریح طور پر خدا کے بیٹے کی نفی کرتا ہے۔۴۔حدیث میں ہے۔(الف) الخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ فَاَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ مَنْ اَحْسَنَ إِلَى عِبَالِه “ (مشكوة كتاب الآداب باب الشفعه الفصل الثالث ) کہ تمام لوگ اللہ کا کنبہ : پس بہترین انسان وہ ہے جو خدا کے کنبہ کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔66 (ب) اَنَّ الْفُقَرَاءَ عِيَالُ اللهِ » ( تفسیر کبیر امام رازی زیر آیت إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ (التوبة:۲۰) کہ غرباء خدا کے بال بچے یا کنبہ ہیں۔( نیز دیکھو جامع الصغیر امام السیوطی مطبوعہ مصر جلد ۲ صفحه ۱۲)