مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 474
474 کہ اللہ تعالیٰ مسیح موعود کے زمانہ میں تمام جھوٹے دینوں کو نیست ونابود کر کے صرف اسلام کو قائم کرے گا۔ب۔ابن جریر میں ہے:۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ذَالِكَ عِندَ خُرُوجِ عِیسی۔( ابن جریر زیر آیت هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ۔۔۔۔الخ الصف: 9) کہ اس آیت میں جس غلبہ اسلامی کا ذکر ہے وہ مسیح موعود کی بعثت کے بعد واقع ہوگا۔نیز دیکھو تفسیر حسینی مترجم اردو جلد ۲ صفحہ ۵۳۸ سورۃ صف زیر آیت بالا۔ج۔نیز لکھا ہے:۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الذِيْنِ كُلِّهِ الحَ قَالَ حِيْنَ خُرُوجِ عِيسَى۔“ ابن جریر زیر آیت هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ الخ الصف : ٩) کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اس آیت لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدَيْنِ گیلا: کے متعلق فرمایا کہ یہ غلبہ مسیح موعود کے ظہور کے بعد ہو گا۔پس ثابت ہے کہ یہ آیت ساری کی ساری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کی پیشگوئی ہے۔نہ کسی اور کی۔چوتھی وجہ:۔یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مثیل عیسی علیہ السلام ہیں۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے مثیل کی پیشگوئی کی اور حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے مثیل ( مسیح موعود ) کی۔پانچویں وجہ:۔یہ کہ اس پیشگوئی کا قرآن مجید میں ذکر کرنے سے مقصود بخیال غیر احمدیاں صرف عیسائیوں پر اتمام حجت کرنا اور احمد رسول کی صداقت کی ایک دلیل دینا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا والدین نے جو نام رکھا وہ احمد نہیں بلکہ محمد تھا۔عیسائی تو ہرگز نہیں مانتے کہ آپ کا نام احمد تھا۔کسی مدعی کا یہ کہنا کہ اللہ نے میرا نام یہ رکھا ہے اس کے ماننے والوں کے لئے تو حجت ہوسکتا ہے لیکن اس کے منکروں پر ہر گز حجت نہیں ہو سکتا اور جو پہلے ہی مانتا ہے اس کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں اور جو نہیں مانتا اس کے لئے یہ دعوی دلیل نہیں بن سکتا۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پیشگوئی کا مصداق قرار دیا جائے تو یہ عیسائیوں کے لئے کوئی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی۔لہذا اس کے بیان