مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 472 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 472

472 اور مَنِ افْتَری “ کو قرار دیا جائے اور خواہ احمد کو قرار دیا جائے۔دونوں صورتوں میں حقیقی مرجع ”احمد“ ہی بنتا ہے اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔کیونکہ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ الْكَذِبَ میں جس شخص کی طرف اشارہ ہے۔وہ وہی ہے جس پر مفتری علی اللہ ہونے یعنی الہام کا جھوٹا دعویٰ کرنے کا الزام ہے اور جس کی اس الزام سے بریت مقصود ہے۔ظاہر ہے کہ وہ احمد رسول ہی ہے جس کے متعلق یہ اعتراض ہے کہ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينُ (النمل: ۱۴) که در حقیقت یہ خدا کا رسول نہیں بلکہ جادوگر ہے اور جادو کی مدد سے یہ نشانات دکھاتا ہے۔پس من أظلم میں احمد رسول کے منکروں کا ذکر نہیں بلکہ خود احمد رسول کی بریت کے لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم اس احمد رسول پر مفتری ہونے کا الزام لگاتے ہو حالانکہ مفتری سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوتا اور خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت سے ثابت ہے کہ یہ ظالم نہیں۔کیونکہ اپنے مقاصد میں کامیاب و کامران ہے۔پس هُوَ يُدْعَى إِلَى الْإِسْلَامِ میں ھو کی ضمیر کا مرجع بہر حال احمد رسول“ ہی ہے نہ کوئی اور۔دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کسی نے جادو گر قرار نہیں دیا۔سو اس کے جواب میں یا درکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کے دشمنوں نے ”جادوگر ساح“۔رمال اور نجومی قرار دیا ہے۔چند حوالہ جات درج ذیل ہیں :۔ا۔پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اپنی سرقہ کردہ کتاب موسومہ سیف چشتیائی میں لکھتے ہیں:۔د تمہارے تمیں سال کے سحروں اور شعبدہ بازیوں کو دفعہ ہی نگل گیا۔“ (سیف چشتیائی از مہر علی گولڑوی صفحه ۱۰۷) ۲۔معلوم ہوا کہ اب تک ساحر قادیانی کا گھر نحوستوں سے بھرا ہوا ہے۔“ تکذیب براہین احمدیہ مصنفہ یکھرام جلد ۲ صفحہ ۲۹۸ مطبع دھرم پر چارک جلندھر ) ۳۔یہی ساحر قادیانی ہے۔“۔مولوی محمد حسین بٹالوی لکھتا ہے :۔(ایضاً صفحه ۳۰۰) اگر چہ یہ پیشگوئی ( متعلقہ وفات احمد بیگ۔خادم ) تو پوری ہوگئی۔مگر یہ الہام سے نہیں بلکہ علم ریل یا نجوم وغیرہ سے کی گئی تھی۔“ (اشاعۃ السنہ بحوالہ اشتہار ۶ ستمبر ۱۸۹۴ء مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۹)۔ایک مخالف مولوی پنجابی شعر میں کہتا ہے